کراچی(نیوز لیب رپورٹ ) افغان طالبان نے گزشتہ تین ماہ کے دوران شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں اسماعیلی برادری کی کم از کم 33 عبادت گاہیں( جماعت خانے ) بند کر دی ہیں،اس کے ساتھ افغان حکومت نے عاشورہ کے موقع پرصوبہ پروان اور لوگر میں شیعہ برادری کی مذہبی تقریبات صرف مخصوص مساجد تک محدود کر دیں ،اقوام متحدہ کے افغانستان امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی 28 جولائی کو جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طالبان نے بدخشاں میں کم از کم 33 اسماعیلی جماعت خانے بند کر کے مذہبی آزادی کو محدود کیا ہے، جبکہ شیعہ برادری کی مذہبی رسومات، خصوصاً عاشورہ کی تقریبات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور بعض افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔یوناما کی تازہ رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے متعدد دیگر سرکاری اداروں کے تعاون سے جنوری سے بدخشاں میں اسماعیلی جماعت خانوں (عبادت کے مقدس مقامات) کو بند کرنا شروع کیا اور اسماعیلی برادری کو ہدایت دی کہ وہ ان مقامات پر عبادت نہ کریں۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ ان عمارتوں میں محراب موجود ہیں، جو قبلہ (مکہ مکرمہ) کی سمت کی نشاندہی کرتی ہیں، لہٰذا انہیں اسماعیلی عبادت گاہوں کے بجائے مساجد تصور کیا جانا چاہیے۔افغانستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ سرکاری جائزے کے بعد ان عمارتوں کی حیثیت مختلف پائی گئی۔ بعض عمارتیں پہلے بھی مساجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی تھیں، جبکہ دیگر رہائشی یا غیر مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی تھیں، اور ہر معاملے میں الگ الگ فیصلہ کیا گیا۔اقوام متحدہ کے افغانستان امدادی مشن نے اپریل سے جون تک کی مدت پر مشتمل اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی۔رپورٹ کے مطابق پابندیوں سے ضلع زیبک کے 17، ضلع اشکاشم کے 14 اور ضلع واخان کے 2 جماعت خانے متاثر ہوئے۔یوناما کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ زمینی جائزوں سے معلوم ہوا کہ ہر جماعت خانے کی صورتحال مختلف تھی، اس لیے ہر معاملے میں الگ الگ بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔طالبان کے مطابق بعض علاقوں میں مساجد موجود نہیں تھیں، جبکہ کچھ جماعت خانے رہائشی عمارتوں کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔یوناما نے مزید بتایا کہ عاشورہ کے موقع پر طالبان نے پروان اور لوگر صوبوں میں شیعہ برادری کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مذہبی تقریبات صرف مخصوص مساجد میں منعقد کریں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل طالبان حکام آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے زیر اہتمام چلنے والے کابل کے معروف سیرینا ہوٹل کا انتظام سنبھال چکے ہیں
