کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) بھارت ،کاکروچ پارٹی کےجنتر منتر احتجاج کے اثرات ، بھارتی نوجوانوں نے اپنے مین اسٹریم میڈیا پر عدم اعتماد کا اظہار کر تے ہوئے حکومت کا ،کاسہ لیس، قرار دے دیا ہے ،ملک بھر میں آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کی قیادت میں ہونے والی ریلیوں میں احتجاجی بینرز پر ٹی وی چینلز کو “بھارت کے بدترین دشمن” قرار دیا گیا، عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالیہ نوجوانوں کے احتجاج نے گودی میڈیا، پر عوامی عدم اعتماد کو نمایاں کر دیا ہے ،اسی وجہ سے گزشتہ ماہ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافی عوامی غصے اور حملوں کا نشانہ بن گئے، کیونکہ مظاہرین انہیں حکومت کا حامی سمجھتے ہیں ۔ اس صورتحال نے روایتی ٹی وی میڈیا پر عوام کے اعتماد کے بڑھتے ہوئے بحران کو بے نقاب کر دیا۔نوجوانوں نے ایسے “گودی میڈیا” کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،نوجوان اسےوزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا حامی سمجھتے ہیں ۔ اس ردعمل نے روایتی میڈیا اور آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو نمایاں کیا، جہاں نوجوان بھارتی بڑی تعداد میں خبروں کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر کئی طلبہ نے بتایا کہ وہ معلومات کے لیے سوشل میڈیا اور آزاد پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں،ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق28 سالہ سافٹ ویئر پروفیشنل سکھجیت نرولا نے کہا، “نیوز چینلز کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ وہ ہر احتجاج کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں۔”احتجاج کے فوری ردعمل میں مظاہرین نے ٹی وی صحافیوں کو نشانہ بنایا۔معروف انگریزی نیوز نیٹ ورک ٹائمز ناؤ کے رپورٹر دیو کوٹک نے بتایا کہ نئی دہلی میں ایک ہجوم نے پہلے ان پر پانی پھینکا، لیکن بعد میں انہیں تھپڑ مارے اور لاتیں بھی ماری گئیں۔36 سالہ دیو کوٹک نے اے ایف پی کو بتایا، “میرے اردگرد غصہ بڑھتا جا رہا تھا اور مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہونے لگا تھا۔”سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں تھکے ہوئے دیو کوٹک سکیورٹی اہلکاروں کے پیچھے بھاگ رہے تھے جبکہ مظاہرین ان کا تعاقب کر رہے تھے۔ ان کے تین دیگر ساتھیوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔اے ایف پی کی تصدیق شدہ ایک اور ویڈیو میں زی ٹی وی کے ایک رپورٹر کو ممبئی میں احتجاج کی لائیو کوریج کے دوران ہجوم نے تضحیک اور نعرے بازی کا نشانہ بنایا۔ایک اور ویڈیو میں مشرقی شہر پٹنہ میں ایک صحافی کو مشتعل ہجوم کے تعاقب سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ٹائمز نیٹ ورک نے کہا کہ اس نے احتجاج کی “مکمل غیر جانبداری” سے کوریج کی، لیکن اس کے باوجود اس کے صحافیوں پر “انتہائی قابلِ مذمت انداز میں حملہ” کیا گیا۔
