کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی جانب راغب نہیں ہو ئے ،کئی ممالک کے دورے اور ایم او یوز پر دستخط کرنے کا بھی تاحال مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا،30جون کو ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری( ایف ڈی آئی ) میں 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری مالی سال 2025-26 کے دوران کم ہو کر 1.637 ارب ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026 میں پاکستان میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی، جو مئی 2026 اور گزشتہ سال جون کے مقابلے میں 94 فیصد کم ہے،ایک سیکیورٹیز کمپنی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ ملکی معیشت کے بارے میں امید افزا رجحان بڑھ رہا ہے اور سرمایہ کار پاکستان کو نئی سرمایہ کاری کے لیے بہتر مقام قرار دے رہے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے میں پاکستان اب بھی اپنے علاقائی حریف ممالک سے پیچھے ہے۔ یہ صورتحال بہتر ہوتے ہوئے معاشی تاثر اور حقیقی سرمایہ کاری کی مسابقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، توانائی کے شعبے میں، جو مجموعی ایف ڈی آئی کا سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے، سرمایہ کاری مالی سال 2025-26 کے دوران کم ہو کر 95 کروڑ 83 لاکھ ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.178 ارب ڈالر تھی۔اسی طرح، مواصلاتی شعبے میں مالی سال 2025-26 کے دوران 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خالص سرمایہ باہر گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ انخلا 7 کروڑ ڈالر تھا۔دوسری جانب، مالیاتی خدمات کے شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ کر 80 کروڑ 55 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال میں 70 کروڑ 26 لاکھ ڈالر تھی۔
