کراچی نیوز لیب رپورٹ ) انٹر نیٹ صارفین کے لئے خوش خبری ،پاکستان کے بڑے شہروں میں آئندہ ہفتے 5جی کے پائلٹ منصوبے شروع ہو جائیں گے ،آئندہ چند ماہ میں اس کی تجارتی بنیادوں پر فراہمی متوقع ہے،یہ اعلان جمعرات کو پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کیا ،انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی سے 510 ملین ڈالر ،تقریباً 142 ارب روپےحاصل کیے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیلی کام ریگولیٹر نے پوزیشن اسائنمنٹ نیلامی بھی کامیابی سے مکمل کی، جس کے ذریعے آپریٹرز کو حاصل ہونے والے اسپیکٹرم بلاکس کی درست پوزیشن کا تعین کیا گیا۔ملٹی بینڈ اسپیکٹرم نیلامی کے عمل کی تکمیل کے بعد میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران کئی ممالک نے پاکستان کے 5جی منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں، جو ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے، اس نیلامی کو ممکن بنانے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ اور دیگر اداروں نے مشترکہ کوششیں کیں ، اس عمل کے لیے درکار اسپیکٹرم خالی کرنے میں مسلح افواج نے بھی تعاون کیا۔انہوں نے کہا، “انٹرنیٹ پاکستان کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل ترقی کی راہ پرگامزن ہے، فائیوجی انٹرنیٹ سروس سے ڈیجیٹل نیشن کی راہ ہموار ہوگی، آئندہ ہفتےسے چند شہروں میں فائیوجی کا پائلٹ پراجیکٹ شروع ہوجائے گا، سپیکٹرم کی کل مقدارساڑھے سات ہزار میگا ہرٹزسے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان فائیو جی کے دور میں داخل ہو گیا ہے، فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اہم سنگ میل ہے، فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے راستے کھل گئے، ہم جدید دور کی جانب گامزن ہیں، ہماری معیشت اب مستحکم ہو رہی ہے، ٹیکنالوجی کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عصر حاضر کی سلامتی میں بھی ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، 5 جی سپیکٹرم سے ہم ٹیکنالوجی کے نئے میدان میں داخل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔شزا فاطمہ نے کہا کہ نیلامی کے پہلے مرحلے میں سپیکٹرم کے بینڈز کی خریداری مکمل ہوئی، یہ ایک تاریخی نیلامی تھی، دوسرے مرحلے میں آج بینڈز کی پوزیشنگ کیلئے بولی ہورہی ہے، اتنا زیادہ سپیکٹرم پہلے کبھی نیلام نہیں ہوا، پاکستان ابھی تک 274 میگاہرٹز سپیکٹرم پر چل رہا تھا، اس طرح پاکستان کم ترین سپیکٹرم رکھنے والے ممالک میں تھا۔ لیکن اب پاکستان کی پوزیشن کم ترین سے درمیان میں آگئی ہے، پورے پاکستان خاص طور پر نوجوانوں کیلئے خوشی کی بات ہے، زراعت، صحت ہر شعبے کیلئے ٹیکنالوجی کی بہت ضرورت ہے، پاکستان کی ٹریڈ اور معیشت کیلئے بھی ٹیکنالوجی ضروری ہے، سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کی ضرورت سکیورٹی کیلئے ہے، گزشتہ سال معرکہ حق میں ایک بڑا حصہ سائبر وار کا تھا جو پاکستان نے جیتا،حکومت نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اب ٹیلی کام کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر سروسز فراہم کریں
