کراچی( نیوز لیب رپورٹ ) سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے پر 2 روز کے بعد ایم کیو ایم کا رد عمل سامنے آگیا ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے گورنرکی تبدیلی کے حوالے سے کہاکہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں،ایم کیو ایم کے زیر اہتمام خدمتِ خلق فائونڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کی تقریب میں سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوری، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاس چھوڑ کر گئے ہیں، حکومت سے بات کی تھی کہ سندھ کے شہری علاقوں سے گورنر بننے کی روایت رہی، سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہے، حکومت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی جس میں کمی ہوئی ہے ،خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے، پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے،
