کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما سینیٹر فاروق ستارسابق گورنر کامران خان ٹیسوری کی واپسی کے لئے سب سے زیادہ سرگرم اور آگے نظر آتے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ واپسی ایم کیو ایم کی واضح پارٹی پالیسی ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پارٹی نے واضح کیا تھا کہ اگر گورنرشپ سمیت طے شدہ معاملات پر عمل نہ ہوا تو ایم کیو ایم حکومت چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے،سندھ کی گورنرشپ ہماری ہے، اسے واپس لیں گے یا پھر اپوزیشن میں بیٹھیں گے،کامران ٹیسوری کو ہٹانے کا کوئی جواز نہیں تھا، ان کی بطور گورنر سندھ واپسی ایم کیو ایم کی واضح پارٹی پالیسی ہے، فاروق ستار نے سندھ کی گورنرشپ کے معاملے پر پارٹی کا دوٹوک مؤقف سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی گورنرشپ کے حوالے سے گزشتہ دو روز کے دوران اہم مشاورت اور پیغام رسانی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں معاملے پر بامعنیٰ اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امید ظاہر کی کہ پارٹی کی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔۔فاروق ستار نے کہا کہ مذاکرات کے دوران انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر اتحاد برقرار نہ رہ سکا تو ایم کیو ایم بھی اسی طرح اپوزیشن میں بیٹھ سکتی ہے جیسے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی بعض اوقات اتحادی حکومت سے الگ ہو کر اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے، کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹانے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں تھی۔ بعد ازاں انہیں یہ جواز دیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اصرار تھا کہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کا گورنر تعینات کیا جائے۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اگر پارٹی سندھ کی گورنرشپ بھی برقرار نہ رکھ سکے تو ووٹرز اور کارکنان قیادت سے سوال کریں گے، اس لیے پارٹی اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ “سندھ کی گورنرشپ واپس لیں گے، بصورت دیگر اپوزیشن میں بیٹھیں گے، یہی ایم کیو ایم کا فیصلہ اور مؤقف ہے۔”
