کراچی ( نیوز لیب رپورٹ)ڈی جی ٹی او نے کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن( کے سی اے اے ) اورکراچی کسٹمز کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایسوسی ایشن(کے سی سی ایف اے )کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں کسٹمز،پورٹ اتھارٹی ، تمام ٹرمینل اور ایس ای سی پی وغیرہ میں کاروباری برادری کی نمائندگی سے روک دیا ہے یہ فیصلہ ایف پی سی سی آئی کی شکایت پر کیا گیا،28 جولائی کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشن نے کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اور کے سی سی ایف اے کے صدر اور سیکریٹری کے نام ایک ہدایت نامے میں لکھا ہے کہ ایف پی سی سی آئی اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے شکایات اور ان شکایات کی مکمل قانونی چھان بین کے بعد آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ایسوسی ایشن کا نام استعمال کرنا فوری بند کر دیں ،کیونکہ ٹریڈ ایکٹ 2013 کے تحت فیڈریشن،چیمبر اور ایسوسی ایشن کا نام بغیر لائسنس کے استعمال کرنا قانوناً جرم ہے آپ کے پاس لائسنس نہیں ہے اور آپ ایسوسی ایشن کا نام استعمال کر کے سرکاری اور نجی سطح پر ٹریڈ کی نمائندگی کر رہے ہیں،ڈی جی ٹی نے اس سلسلےمیں سپریم کورٹ،اسلام آباد ہوئی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی نظیر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ فوری طور پر ایسوسی ایشن کا لفظ استعمال کرنا بند کریں ،اپنے لیٹر ہیڈ اور ویب سائٹ سے ایسوسی ایشن کا نام اور لوگو ختم کریں ،کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کمونیکشن میں ایسوسی ایشن کے نام کا استعمال کرنا آپ کے لئے اب منع ہے ،آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسوسی ایشن کے ممبر شپ کارڈ کا اجراء روک دیں ،آپ کسٹمز،پورٹس،ٹرمینل یا نجی سطح پر کسٹمز،ایجنٹس،فارورڈ آپریٹرز اور لاجسٹک کے شعبے کی نمائندگی نہیں کرسکتے، ڈی جی ٹی اور نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ 14 روز میں آپ حلف نامہ جمع کرائیں کہ آپ نے اس فیصلے پر عمل کر دیا ہے ،اور اگر فیصلے پر عمل نہ ہوا تو تمام عہدیداروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،ڈی جی ٹی او نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ کسٹمز،پورٹ اتھارٹی اور ٹرمینل آپریٹرز کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے کہ آپ یا آپ کے نمائندوں کو ڈی لسٹ کیا جائے
