کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )اسرائیلی وزیراعظم نےگریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا روحانی مشن اور اپنی آنے والی نسلوں کا خواب قرار دے دیا ہے ،ایک تازہ انٹرویو میںوزیر اعظم نیتن یاہو نے گریٹر اسرائیل کو تاریخی اور روحانی مشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماضی کے خوابوں کی تعبیر اور مستقبل کی رہنمائی ہےانھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک “تاریخی اور روحانی مشن” پر مامور ہیں ، یہ نسلوں کا مشن ہے۔ نسلوں نے یہاں آنے کا خواب دیکھا اور نسلیں آئندہ بھی یہاں آئیں گی۔ اگر آپ پوچھیں کہ کیا میں ایک تاریخی و روحانی مشن پر ہوں، تو جواب ہے، جی ہاں یہ درست ہے ، اس سے قبل گریٹر اسرائیل کے تصور کو صرف انتہا پسند صیہونی تصور سمجھا جاتا تھا ،واضح رہے کہ “گریٹر اسرائیل” کا تصور مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی عدم استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی موقف کے مطابق “گریٹر اسرائیل” کا مطلب صرف موجودہ اسرائیل نہیں بلکہ وہ تمام علاقے ہیں جنہیں اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں فتح کیا تھا۔ان علاقوں میں مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ، گولان کی پہاڑیاں، جزیرہ نما سینا بھی شامل ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انٹرویو کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اینکر شارون گل نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایک “تعویذ” بھی پیش کیا، جس پر مبینہ طور پر وعدہ شدہ زمین (Promised Land) کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ دوسری جانب مصر، اردن اور سعودی عرب نے اس انٹر ویو پر اپنے رد عمل میں میں کہا ہے کہ گریٹر اسرائیل کا نظریہ خطے میں امن کی کوششوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
