کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) انسداد دہشت گردی کراچی کی منتظم عدالت کا سیاسی کارکنوں کے لئےتاریخ ساز فیصلہ ، جج سارہ جونیجو کا فیصلہ کیا تمام سیاسی کارکنوں کے لئےایک مستقل تحفظ کا سبب بنے گا؟ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے موقع پر گرفتار جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔

انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے جماعت اسلامی کے وکیل طاہر اقبال ملک ایڈووکیٹ کی درخواست پر یہ حکم جاری کیا۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022 کے اسپیشل قانون کی سیکشن 5 اور سب سیکشن 2 کے تحت کسٹڈی میں ٹارچر کیخلاف تحقیقات کا حکم جاری کیا جائے۔گرفتار کارکنوں کی میڈیکو لیگل رپورٹ میں پولیس تشدد ثابت ہوچکا ہے ،وکیل کے مطابق جماعت اسلامی کارکنان کو شدید تشدد کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کے میڈیکو لیگل معائنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس تشدد سے زخمی کارکنوں کو فریکچر انجریز اور ہیڈ انجریز تھیں۔ میڈیکو لیگل رپورٹ انسداد دہشتکردی کی منتظم عدالت میں پیش کی گئی جس میں ثابت ہوا کہ کارکنان پر پولیس تشدد کیا گیا۔ عدالت نے دلائل اور میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ سنایا اور گرفتار جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کیخلاف تحقیقات اور مقدمہ درج کرے۔ عدالتی حکم پر ایف آئی اے آرام باغ پولیس کے متعلقہ افسران واہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرے گی۔ طاہر علی ایڈووکیٹ کے مطابق ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022 کے اسپیشل قانون کے مطابق یہ کیس ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہے
