کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) بجلی کے صارفین کئی برس سے پاور سیکٹر کی بدانتظامی، ناقص حکمت عملی اور اصلاحات میں مسلسل تاخیر کی قیمت ادا کر رہے ہیں، بجلی کمپنیوں کی ناکامیوں کا بوجھ عوام اور صنعتوں پر ڈالنا ناقابل قبول ہے،بجلی کمپنیوں کی نااہلی کی سزا عوام کو کیوں؟ ڈیٹ سروس سرچارج ختم کیا جائے، بزنس مین پینل پروگریسو (بی ایم پی پی) کے سیکرٹری جنرل اور ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے کہا ہے کہ بجلی صارفین کئی برس سے پاور سیکٹر کی بدانتظامی، ناقص حکمت عملی اور اصلاحات میں مسلسل تاخیر کی قیمت ادا کر رہے ہیں جبکہ بجلی کمپنیوں کی ناکامیوں کا مالی بوجھ گھریلو اور صنعتی صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی یونٹ 3 روپے 23 پیسے کے ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) پر فوری نظرثانی کی جائے کیونکہ یہ سرچارج ادارہ جاتی ناکامیوں کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔خرم اعجاز نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ نے ایک تلخ حقیقت بے نقاب کر دی ہے کہ پاور سیکٹر کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے بار بار عوام اور کاروباری طبقے سے اس کی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ حکومت کی قومی بجلی پالیسی اور نیشنل الیکٹرسٹی پلان میں مسابقتی، صارف دوست اور مالی طور پر مستحکم بجلی مارکیٹ کے دعوے کیے گئے مگر آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2014 سے 2024 تک پاور سیکٹر کا خسارہ اوسطاً مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے2.8 فیصد کے برابر رہا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ گردشی قرض جون 2024 میں 2.39 ٹریلین روپے سے کم ہو کر جون 2025 میں 1.61 ٹریلین روپے رہ گیا تاہم آڈیٹر جنرل کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اس کمی کی بنیادی وجہ حقیقی اصلاحات نہیں بلکہ کمرشل قرضے اور حکومتی مالی مداخلت ہے۔خرم اعجاز کا کہنا تھا کہ قرض لے کر گردشی قرض کم کرنا اصلاحات نہیں بلکہ مسئلے کو مستقبل پر ٹالنے کے مترادف ہے جبکہ عوام کو مسلسل مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو265 ارب روپے ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات اور 132 ارب روپے ناقص ریکوری کی مد میں نقصان اٹھانا پڑا جو گردشی قرض میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بجلی چوری، تکنیکی نقصانات، ناقص ریکوری اور کمزور انتظامی نظام پر قابو پانے میں ناکامی کے باوجود ہر سال بجلی مزید مہنگی کی جا رہی ہے جسے کسی صورت اصلاحات قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے آڈیٹر جنرل کی اس نشاندہی کو بھی اہم قرار دیا کہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ڈیٹ سروس سرچارج عائد کیا جا رہا ہے حالانکہ کمپنی گردشی قرض میں حصہ دار نہیں جو شفافیت، انصاف اور صارفین کے حقوق سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2024-25 میں ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات17.55 فیصدتک پہنچ گئے جبکہ نیپرا کی مقررہ حد 11.77 فیصد تھی۔ بجلی چوری، ناقص میٹرنگ، غلط بلنگ اور واجبات کی تاخیر سے وصولی کے باعث ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ایماندار صارفین کو بڑھتے ہوئے نرخوں کی صورت میں اس کی سزا دی جا رہی ہے۔خرم اعجاز نے کہا کہ ملک کا بوسیدہ اور ناکافی ٹرانسمیشن نظام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے باعث مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.9 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کرنا پڑیں۔ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی بروقت اپ گریڈیشن نہ ہونے کے باعث ملک اپنی دستیاب بجلی کی مکمل پیداواری صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا اور اس کی قیمت بھی صارفین سے وصول کی جا رہی ہے۔انہوں نے 800 میگاواٹ مارکیٹ ایلوکیشن اور وہیلنگ منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مثبت ضرور ہے لیکن بجلی کے شعبے میں حقیقی مسابقت پیدا کرنے اور سنگل بائر ماڈل پر انحصار ختم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔انہوں نے اس بات پر دیا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں پیداواری لاگت کے بجائے نااہلی، بدانتظامی اور نقصانات کا بوجھ شامل رہے گا، پاکستان کی صنعت عالمی منڈی میں مسابقت حاصل نہیں کر سکے گی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی ٹیرف نظام کا جامع جائزہ لیا جائے، ڈیٹ سروس سرچارج پر فوری نظرثانی کی جائے اور ڈسکوز کی گورننس بہتر بنانے، بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی، ٹرانسمیشن نظام کی تیز رفتار اپ گریڈیشن، بلنگ سسٹم کی اصلاح اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت سمیت بنیادی اصلاحات پر فوری عمل کیا جائے
