کراچی ( نیوزلیب رپورٹر) موت سے نہ ڈرنے والے کی خود کشی کیوں ، بھارتی شہر بنگلورو کے 8 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے مالک بزنس ٹائیکون رئیل اسٹیٹ گروپ، کونفیڈنٹ کے چیئرمین سی جے رائے کی خودکشی یا قتل ،رائے کی فیملی نے تحقیات کا مطالبہ کر دیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 روز قبل بنگلور کے بزنس ٹائیکون نےمحکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے کے دوران اپنے دفتر میں خود کو بند کر کےگولی مار کر خودکشی کر لی، ان کی عمر 57 برس تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق انکم ٹیکس کے چھاپے کے دوران وہ اپنے دفتر میں موجود تھے اور اسی دوران انہوں نے خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔بنگلورو پولیس کے مطابق گزشتہ تین دنوں سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سی جے رائے اور ان سے منسلک ان کی کمپنیوں پر چھاپے مارے جا رہے تھے، چھاپوںکا مقصد ان کے آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین تھا،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان پر منی لانڈرنگ کے الزمات بھی تھے ،ان کے قریبی حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کیرالہ اور کرناٹک میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے بھاری فنڈنگ کے الزامات وہ وجوہات ہیں جس کہ وجہ سے انکم ٹیکس حکام نے ان کواپنی نگرانی میں رکھنا شروع کیا تھا ،تاہم بنگلورو کے پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ خودکشی ہے یا اس میں کسی قسم کی اکسانے کا پہلو موجود ہے، انکم ٹیکس کی چھاپہ مار ٹیم کا تعلق کیرالہ سے بتایا جا رہا ہے جس سے پولیس ابھی بات چیت کرے گی۔ سی جے رائے کا تعلق کیرالہ ریاست کے شہر کوچی سے تھا، وہ لگژری گاڑیوں کے شوقین تھے اور ملیالم فلم انڈسٹری سے بھی وابستہ رہے، انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیںدبئی سے ان کے اہلِ خانہ بھارت پہنچ گئے ہیں ان کی اہلیہ لینا رائے اور بیٹے روہتھ رائے دبئی سے بوئرنگ اسپتال کے پوسٹ مارٹم سینٹر پہنچے، جہاں ان کے ہمراہ کرناٹک پردیش یوتھ کانگریس کمیٹی کے صدر محمد نلاپاد بھی موجود تھے، ان کی فیملی کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس حکام کے دباؤ کے علاوہ ان پر کوئی دباو نہیںتھا وہ بار بار ہونے والی انکم ٹیکس (آئی ٹی) چھاپہ مار کارروائیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا، ان پر نہ کوئی قرض تھا، نہ کسی قسم کی دھمکیاں، اور نہ ہی کوئی مالی مسائل تھے۔ ان کے بھائی سی جے بابو نے کہا کہ :“انکم ٹیکس کے معاملے کے علاوہ اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سچ سامنے آنا چاہیے۔
” دلچسپ اور اہم انٹریو ایک خلیجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنی وفات سے صرف ایک ماہ قبل، ڈاکٹر رائے نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت مرنے پر “بہت خوش” ہوں گے۔ ان کے یہ الفاظ اب اُن تمام لوگوں کے دلوں کو بے چین کر رہے ہیں جو انہیں جانتے تھے۔انہوں نے کہا،“مثال کے طور پر اگر میں کل سفر کر رہا ہوں، خدا نہ کرے، اور اگر کپتان کہے کہ یہ طیارہ گرنے والا ہے تو میں نہیں روؤں گا… میں بہت خوش ہوں گا،”یہ بات انہوں نے اس ویڈیو انٹرویو میں کہی جسے اُن کا آخری انٹرویو سمجھا جا رہا ہے۔بنگلورو کے آئی ٹی منظرنامے سے دبئی کے بورڈ رومز تکڈاکٹر رائے کی پیدائش کیرالہ میں چیریانکنداتھ جوزف رائے کے نام سے ہوئی اور ان کی پرورش بنگلورو میں ہوئی۔ انہوں نے فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے تعلیم مکمل کی اور اپنی کمپنی قائم کرنے سے قبل فورچون 500 کی بڑی کمپنی ہیولٹ پیکارڈ میں کام کیا۔ انہوں نے زیورخ کے ایس بی ایس بزنس اسکول سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر رائے اپنے “بلا قرض” کاروباری فلسفے کے لیے مشہور تھے۔ ان کے غیر روایتی فیصلے اور انقلابی حل رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں مثال بن چکے تھے ، جبکہ ان کی پُرجوش شخصیت اور جوان جذبہ ہر اُس شخص کو متاثر کرتا تھا جو ان سے ملا۔ان کی کمپنی نے مختلف شعبوں میں وسعت اختیار کی، جن میں رئیل اسٹیٹ، مہمان نوازی، ہوا بازی، تفریح، تعلیم، گالف، ریٹیل اور تعمیراتی سامان کی بین الاقوامی تجارت شامل ہیں۔ یو اے ای کی گولڈن ویزا کے حامل ڈاکٹر رائے دبئی کے ایمیریٹس ہلز میں مقیم تھے اور اپنا زیادہ وقت متحدہ عرب امارات اور کچھ بھارت میں گذارتے تھے
