کراچی(نیوز لیب رپورٹ)کرپشن یا غفلت ،طبی عملے نے کراچی کی غریب آبادی کے 84 مریضوں کو لاعلاج اور موذی مرض کا شکار بنا دیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی جانب سے سامنے آیا ہے ،وفاقی وزیر کے مطابق سائٹ کے علاقے میں واقع کلثوم بائی ولیکا ہاسپٹل میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ میں 84 افراد کو ایڈز کا مرض کا شکار ہونے کی اطلاع ہے ، ایڈز کا شکار ہونے والے ان مریضوں میں اکثریت بچوں کی ہے اور یہ تمام مریض آلودہ سرنجوں سے انجیکشن لگانے کی وجہ سے اس موذی مرض کا شکار ہو ئے ہیں مصطفی کمال کے مطابق جیسے ہی اس کا پتہ چلا تو ڈی جی ہیلتھ کو بھیجا اور متاثرہ لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور اب انہیں دوائیں دے رہے ہیں،وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اراکین کو بتایا کہ تمام متاثرہ بچوں کا سراغ لگا کر انہیں رجسٹر کر لیا گیا ہے اور انہیں اینٹی ریٹرو وائرل علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
ہاسپٹل انتظامیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈز کے یہ مریض ولیکا ہاسپٹل عملے کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ہاسپٹل کے قریب واقع ایک کچی بستی پٹھان کالونی میں غیر قانونی طور پر پریکٹس کرنے والے عطائی ڈاکٹر اس کے ذمہ دار ہیں ، کچھ ہفتے قبل تیز بخار، سینے میں جکڑن، اسہال اور قبض میں مبتلا بچوں کو ہسپتال لایا گیا تھا۔بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے اور نتائج میں وہ ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے،بعد ازاں سی ڈی سی پروگرام کے تحت اردگرد کے علاقے میں ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کی گئی تو مزید کیس سامنے آئے جن میں بچوں کے ساتھ بزرگ بھی شامل ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن کا ذمہ دار غیر قانونی طور پر پریکٹس کرنے والے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کی جائے ، اس علاقے میں غیر تربیت یافتہ اور غیر رجسٹرڈ عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے جن کے غیر محفوظ علاج کے طریقے ایچ آئی وی کی منتقلی کا سنگین خطرہ بن گیا ہے ۔اس سے پہلے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریبا 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ ایڈز ایک سے دوسرے شخص تک پھیلنے والا مرض ہے، جس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے ،دوسری جانب سندھ ایڈز سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نےکراچی کے ولیکا ہسپتال میں اسکریننگ کیمپ قائم کر دیا ہے۔ تاہم اسکریننگ کے عمل کے دوران ایڈز کیسز کی نشاندہی سے متعلق کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔ ایڈز کنٹرول پروگرام نے تمام اعداد و شمار بھی مکمل طور پر خفیہ رکھے ہیں ،
