کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) عوام کے لئے اچھی خبر، حکومت نےکم لاگت ہاوسنگ اسکیم کو مزید پرکشش بنادیا ، مارک اپ ریٹ 8 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے، گھر کی تعمیر کے لئے آپ حکومت سے اب ایک لاکھ تک قرض 5فیصد شرح سود پر حاصل کر سکتے ہیں، حکومت نے بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 90 فیصد تک فنانسنگ فراہم کریں جبکہ قرض حاصل کرنے والے پاکستانی شہری کو صرف10 فیصد رقم خود لگانی ہوگی، حکومت کی اس کم لاگت گھروں کی رعایتی اسکیم کے لئے پہلے ہاؤسنگ لون کی حد 35 لاکھ تھی جو کہ اب ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے ،اس اسکیم سے وہ شہری فائدہ اٹھاسکتے ہیں جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ درخواست گزار کے نام پر پاکستان میں پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد نہ ہو ۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں پہلی بار اپنا گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔درخواست گزار اپنے پاس موجود پلاٹ پر گھر کی تعمیر، بنا بنایا گھر یا فلیٹ خریدنے، یا نیا پلاٹ خرید کر اس پر تعمیر کرنے کے لیے بھی قرض کی درخواست دے سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کم لاگت گھروں کی تعمیر کیلئے حکومت کی رعایتی اسکیم پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔۔ 10 مرلے کے گھر کیلئے بھی اب 5فیصد فکسڈ سود پر قرض ملے گا۔ حکومت سستے گھروں کیلئے پہلے سال 322 ارب روپے کی سبسڈی دے گی جس میں 282 ارب روپے مارک اپ سبسڈی،40 ارب کی رسک شیئرنگ کاسٹ شامل ہے۔ ہاوسنگ اسکیم کے تحت 4 سال میں 5 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سستے گھروں کیلئے قرض پر سود پہلے 8 فیصد تھا جو کہ اب فکسڈ 5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے 8 فیصد پر قرض لینے والوں کو بھی اب 5 فیصد فکسڈ سود دینا ہوگا۔اسکیم کے تحت گھر کا سائز 5 مرلہ سے بڑھا کر 10 مرلہ کردیا گیا، اسکیم کے تحت گھر کا زیادہ سے زیادہ سائز 2720 مربع فٹ ہوگا، فلیٹ یا اپارٹمنٹ کا سائز 1360 سے بڑھا کر 1500 مربع فٹ مقرر کردیا گیا،قرض کی واپسی کے لیے 20 سال تک کا طویل عرصہ دیا گیا ہے جس سے ماہانہ قسط کا بوجھ بہت کم ہو جاتا ہے
