کراچی ( نیوز لیب رپورٹ) پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات،غربت اورانصاف کے نظام سے مایوس نوجوان تیزی سے ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں ، ملک کی نوجوان نسل میں یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے،میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق پاکستان میں یہ صورتحال خطرناک رحجان کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ اب ہر سال کم از کم 17 ہزار پاکستانی خودکشی کی کوشش کرتے ہیں،سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 10 میں سے تقریباً چار افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں، جن میں ڈپریشن، بے چینی اور خودکشی کے خیالات شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ذہنی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو عالمی معیشت کو ہر سال ایک کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔پاکستان میں تقریباً 38 فیصد شہری نفسیاتی یا ذہنی مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ 25 فیصد شدید ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ماہرینِ ذہنی صحت کے مطابق ملک کی نوجوان نسل میں یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بہت سے نوجوان سماجی اور معاشی دباؤ کے باعث مایوسی، منشیات کے استعمال اور خودکشی کے رجحانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں تقریباً 7 فیصد افراد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر خودکشی کے خیالات کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ذہنی بیماری پاکستان میں ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کر رہی ہے، جو خاندانوں کو برباد اور کمیونٹیز کو کمزور کر رہی ہے۔پاکستان کا یہ بحران دراصل ایک عالمی ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین رپورٹس ،ورلڈ مینٹل ہیلتھ ٹوڈے اور مینٹل ہیلتھ اٹلس 2024 سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے عام بیماریاں بے چینی اور ڈپریشن ہیں، خاص طور پر خواتین میں۔ صرف 2021 میں 7 لاکھ 27 ہزار افراد نے خودکشی کی، جو نوجوانوں میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بوجھ کے باوجود ذہنی صحت پر اخراجات نہایت کم ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق حکومتیں اپنے صحت کے بجٹ کا اوسطاً صرف 2 فیصد ذہنی صحت پر خرچ کرتی ہیں، جو 2017 سے اب تک نہیں بدلا۔امیر ممالک فی کس 65 ڈالر تک خرچ کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے ممالک، جیسے پاکستان، صرف چار سینٹ فی کس خرچ کرتے ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے صرف چند ماہر نفسیات کی موجودگی نے پاکستان کو اس خطے میں سب سے زیادہ علاج کے خلا والے ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ماہرینِ ذہنی صحت، کا کہنا ہے کہ نظراندازی، بے روزگاری، غربت اور کم آگاہی ہر سال ہزاروں نوجوانوں کو ڈپریشن اور منشیات کی طرف دھکیل رہی ہے۔ماہرین نے فوری اصلاحات پر زور دیا، جن میں ذہنی صحت کو بنیادی طبی سہولیات میں شامل کرنا، اسکولوں اور دفاتر میں کونسلنگ سروسز فراہم کرنا اور قانون سازی شامل ہے تاکہ نفسیاتی علاج کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جا سکے۔عالمی سطح پر ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ دنیا کے 10 فیصد سے بھی کم ممالک کمیونٹی بیسڈ ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ تقریباً نصف داخلے جبری ہوتے ہیں اور ان میں سے پانچواں حصہ ایک سال سے زیادہ طویل رہتا ہے۔تاہم کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ اسکولوں میں ذہنی صحت کے پروگرام، خودکشی کی روک تھام کی مہمات اور ٹیلی ہیلتھ سروسز کئی ممالک میں بڑھ رہی ہیں۔ 2020 میں صرف 39 فیصد کے مقابلے میں اب 80 فیصد سے زیادہ ممالک نے ہنگامی منصوبوں میں نفسیاتی معاونت شامل کر لی ہے۔پاکستان میں بھی جامعات، این جی اوز اور نجی ادارے کونسلنگ ہیلپ لائنز اور آگاہی مہمات شروع کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مسئلے کے وسیع پیمانے کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ماہرین نے ذہنی صحت کو ہمارے دور کے سب سے بڑے عوامی صحت کے چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذہنی صحت میں سرمایہ کاری کا مطلب ہے لوگوں، برادریوں اور معیشتوں میں سرمایہ کاری۔ غفلت کی قیمت صرف ڈالرز میں نہیں بلکہ ضائع ہونے والی زندگیاں اور ٹوٹنے والی کمیونٹیز ہیں۔”ماہرین کے مطابق تقریباً 8 کروڑ پاکستانی براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہیں، اس لیے ملک مزید یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ذہنی صحت کو ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جائے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بوجھ بڑھتا رہے گا، زیادہ نوجوان مایوسی کا شکار ہوں گے

