کراچی (نیوز لیب رپورٹ) ملکی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے لگا ، اہم شعبوں میں مثبت رجحان ، کاروباری اعتماد میں 16فیصد کی نمایاں بہتری ، مینو فیکچرنگ سیکٹر کا اعتماد گزشتہ سروے کے منفی3 فیصد کے مقابلے میں مثبت 15 فیصد ہوگیا ہے ،تفصیلات کے مطابق اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)نے مارچ اور اپریل 2025 کے دوران اپنے جامع بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے ویو27 کا نتائج کا اعلان کردیاہے۔ سروے کے نتائج کا اعلان وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے او آئی سی سی آئی کے وفد کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق کاروباری اعتماد میں 16فیصد کی نمایاں بہتری آئی ہے۔ بزنس کانفیڈنس انڈیکس اکتوبر ،نومبرمیں کیے گئے سروےWave 26کے منفی5فیصد کے مقابلے میں11فیصد مثبت ہے۔ معیشت کے مختلف شعبوں میں مثبت تبدیلی کی بڑی وجہ میکرو اکنامک استحکام، کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور اگلے 6 ماہ کے دوارن کاروباری حالات میں متوقع بہتری کاروباری اعتماد کی بحالی کی اہم وجوہات ہیں۔
سروے نتائج کے مطابق مجموعی کاروباری اعتماد میں بہتری کی قیادت مینوفیکچرنگ سیکٹر نے کی ہے اور مینو فیکچرنگ سیکٹر کا اعتماد گزشتہ سروے کے منفی3 فیصد کے مقابلے میں مثبت 15 فیصد ہوگیا ہے جبکہ ریٹیل/ہولسیل سیکٹرز کا اعتماد ویو26 کے سروے کے منفی 18 کے مقابلے میں مثبت 2 فیصد ہوگیا ہے۔
اسی طرح خدمات کے شعبے میں کاروباری اعتماد میں استحکام رہا اورکاروباری اعتماد گزشتہ سروے کے 2 فیصد سے بڑھ کر مثبت 10 فیصد ہوگیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ کاروباری اعتماد میں اضافہ اس بات کی عکاسی ہے کہ معیشت درست سمت میں جارہی ہے ۔ ہم سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول بنانے، نجی شعبے کی ترقی میں معاونت اور طویل المدّتی معاشی استحکام یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیںاور کاروباری اداروںکا اعتماد ہماری کوششوں کی توثیق ہے۔
بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے ویو27 کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہاکہ گزشتہ 2 سالوں کے دوران کاروباری اداروں کے مجموعی اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ موجودہ سروے میں کاروباری اعتماد میں نمایاں اضافہ پاکستان کے کاروباری شعبے کی صلاحیت اورترقی کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کی عکاسی ہے۔ اہم شعبوں میں مثبت رجحان خوش آئند ہے تاہم اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کیلئے پالیسیوں میں مستقل مزاجی، شفافیت اور او آئی سی سی آئی کے ممبران سمیت کلیدی اسٹیک ہولڈرز سے موئثر روابط ضروری ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق آئندہ 6 ماہ کیلئے 45 فیصد شرکاء نے 6 ماہ کیلئے مثبت توقعات کا اظہار کیاہے۔مثبت رجحان کی بڑی وجوہات میں معاشی نمو، بہتر حکومتی پالیسیاں، سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول اور سیکیوریٹی کی بہتر صورتحال شامل ہیں۔ مثبت رجحان کے باوجود 53 فیصد جواب دہندگان نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران کاروباری حالات پر منفی نقطہ نظر کا BCI Wave 27 کے نتائج توقع سے زیادہ بہتر ہیں اور تمام بڑے شعبوں میں مثبتاظہار کیا ہے تاہم یہ اعدادو شمار Wave 26میں منفی66 فیصد کے مقابلے میںنمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
موجودہ چیلنجز میں، سیاسی عدم استحکام، روپے کی قدر اور توانائی اور تجارتی پالیسیاں اہم خدشات ہیں۔ سروے میں شامل او آئی سی سی آئی کے ممبران غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد گزشتہ سروے کے مثبت 6 فیصد کے مقابلے میںغیر معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 17 فیصد ہوگیا ہے۔ کاروباری اعتماد میں اضافہ گزشتہ 6 ما میں عالمی کاروباری صورتحال ،پاکستان میں صنعتی ماحول میں بہتری اور آنے والے 6 ماہ میں سرمایہ کاری میںمتوقع اضافہ بنیادی وجوہات ہیں۔ اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو/سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے سروے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ توقعات کی عکاسی ہیں۔روزگارکے امکانات، توسیعی منصوبے اور سرمایہ کاری کے امکانات نے خاص طورپر مینوفیکچرنگ اور ریٹیل کے شعبوں میں قابلِ ذکر بہتری نظر آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ مجموعی طورپر قابلِ ذکر بہتری کے باوجودنئی سرمایہ کاری کے منصوبوں میںصرف 19 فیصد بہتری آئی ہے اور یہ ابھی بھی منفی ہے جوکہ باعثِ تشویش ہے اور اقتصادی ترقی کو مزید تیز کرنے ، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ، تجارت اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سروے میں مستقبل کیلئے مہنگائی، ٹیکسیشن،حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل ،روپے کی قدر میں کمی جیسے نمایاں خدشات کو اجاگرکیا گیا ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسیشن گزشتہ سروے میں بھی اہم خدشات تھے جو ان شعبوں میں موجود چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ او آئی سی سی آئی سال میں 2 مرتبہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کا انعقاد کرتی ہے جس میں پاکستان کے تقریباً 80 فیصد جی ڈی پی کی نمائندگی کرنے والے بڑے کاروباری اسٹیک ہولڈرز کی آرا شامل ہوتی ہے۔ سروے میں مینوفیکچرنگ ، خدمات اور ریٹیل/ہولسیل سمیت مختلف شعبوں کی رائے کو شامل کیا گیا ہے اور علاقائی، قومی اور کاروباری اداروں کے تاثرات کا جائزہ لیا گیا ہے
