کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ڈھاکہ ایوان تجارت و صنعت کے سا منے پاکستان-بنگلہ دیش تجارتی فورم کے قیام کی تجویز رکھ دی،وفاقی وزیر نے اپنی تجویز میں کہا کہ یہ فورم باری باری بنگلہ دیش اور پاکستان میں منعقد ہو نے چاہئے ،احسن اقبال نے اخراجات میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لئے کراچی-چٹاگانگ براہ راست بحری راستے کی بھی تجویز پیش کی گئی تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے،میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو وفاقی وزیر نے ایوان تجارت و صنعت ڈھاکہ کا دورہ کیا اور ڈھاکہ چیمبر کے اراکین کے ساتھ ایک نہایت بامعنی اور دور رس اہمیت کی حامل نشست منعقد کی اس نشست میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعاون کو مضبوط، فعال اور نتیجہ خیز شراکت داری میں ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اور جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنگلہ دیش کی جمہوری کامیابی پر دلی مبارکباد اور نیک تمنائوں کا پیغام پہنچایا اور اس حقیقت پر زور دیا کہ پائیدار استحکام ہی ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کی اصل بنیاد ہے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ مشترکہ منڈیاں عالمی مسابقت میں نمایاں اور موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ زرعی شعبہ، معلوماتی ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، کپڑا سازی، بحری نقل و حمل اور باہمی روابط کو ترجیحی شعبوں کے طور پر نمایاں کیا گیا جہاں فوری اور عملی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے براہ راست پروازوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے رابطہ کاری کو معاشی ترقی کا بنیادی محرک قرار دیا۔ مال برداری کی لاگت اور ترسیل کے دورانیے کو ایک اہم چیلنج کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے کراچی-چٹاگانگ براہ راست بحری راستے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ اخراجات میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے انہوں نے پاکستان-بنگلہ دیش تجارتی فورم کے قیام کی تجویز بھی پیش کی جو باری باری ڈھاکہ اور پاکستان میں منعقد ہو اور موقع پر ہی دوطرفہ ادارہ جاتی ڈھانچے کے آغاز کے ساتھ فوری رابطہ کاری کا عمل شروع کر دیا گیا۔احسن اقبال نے مشترکہ خوشحالی، علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط معاشی شراکت داری ہی ایک محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔
