کراچی(نیوز لیب رپورٹ) سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کراچی کو تباہ کیا جا رہا ہے، تمام ملازمتیں اندورن سندھ میں ملیں گی تو کراچی حیدر آباد والے کہاں جائیں گے،کراچی میں کھلے عام موٹرسائیکل سواروں کو لوٹا جارہا ہے، مخدوش عمارتوں کے کیس میں وزیربلدیات کوایف آئی آرمیں شامل کیاجائے، اتوار کو کراچی میںپارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے غیرجمہوری طرز عمل سے سندھ میں غم و غصہ ہے، اگر احتجاج کا راستہ نہ اپنایا گیا تو عوام اپنا راستہ خود نہ نکال لیں،ڈاکٹر فاروق ستار نے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے معاملے پر سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اجرک کی آڑ میں لوٹ مار کا دھندا جاری ہے ، پیپلزپارٹی کے غیرجمہوری طرز عمل سے سندھ میں غم و غصہ ہے ، پیپلزپارٹی کے غیرجمہوری طرز عمل سے سندھ میں غم و غصہ ہے،سندھ میں پیپلز پارٹی کا طرز حکمرانی بدترین ہے، ایم کیوایم نے پیپلزپارٹی کو بہتری کے لیے کافی وقت دیا ہے، پیپلزپارٹی کوپتہ بھی نہیں چلے گاکب انکے پیروں تلے زمین نکل جائیگی۔فاروق ستار نے کہاکہ اجرک والی نمبر پلیٹ کا مذموم مقصد ہے، اجرک عزت و احترام کی علامت ہے تاہم کراچی میں اجرک کی آڑ میں لوگوں کولوٹاجارہاہے، اجرک کی آڑمیں لوٹ مارکا دھندا شروع کردیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے کراچی کوتباہ کردیا ہے، وزرا اور ان کے بچے فینسی نمبرپلیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ اندرون سندھ تو کوئی نمبرپلیٹ استعمال ہی نہیں کرتا، مگر کراچی کے لوگوں کو بے جا پابندیاں عائد کر کے ذبح کیاجارہاہے،فاروق ستار نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ نئی نمبر پلیٹ دینی ہے تو مفت میں دیں لوگ شوق سے لگائیں گے، پولیس والوں کو فری ہینڈ دیا گیا ہے چلان کریں جس سے کمیشن الگ ملتا ہے۔مخدوش عمارتوں کے حوالے سے فاروق ستار نے کہا کہ وزیر بلدیات پابند ہیں ہر 3 ماہ بعد مخدوش عمارتوں کی فہرست دیں، سہون سے 40 ایکسپرٹس کو ایس بی سی اے بھیج دیا گیا، 6 افسران کو پکڑ کر بلی کر بکرا بنا دیا گیا۔ لیاری میں گرنیوالی مخدوش عمارت کے رہائشیوں کیلیے کچھ نہیں کیاگیا،صرف ایس بی سی اے پر ذمہ داری ڈال کرجان چھڑالی گئی، مخدوش عمارت کے رہائشیوں کو متبادل جگہ فراہم کرنا وزیر بلدیات کی ذمہ داری ہے۔ مخدوش عمارتوں کے حوالے سے وزیربلدیات سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مخدوش عمارتوں کے کیس میں وزیربلدیات کوایف آئی آرمیں شامل کیاجائے، سہون کے افسران کی کراچی میں تعیناتی کی مذمت کرتے ہیں،اس طرح کے اقدامات سے شہری اوردیہی آبادی میں نفرت بڑھ رہی ہے۔سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کراچی کو تباہ کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی والوں کے لہجے دیکھیں گھمنڈ کی انتہا ہے، ساری ملازمتیں اندورن سندھ میں ملیں گی تو کراچی حیدر آباد والے کہاں جائیں گے؟انہوں نے کہاکہ سسٹم صرف ایس بی سی اے میں نہیں ہائیڈرنٹ میں الگ سسٹم کام کر رہا ہے، حیدر آباد کو آفت زدہ قرار دے کر ایک سال کا ٹیکس معاف کیا جائے
