کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر برسراقتدار گروپ کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے ایم کیو ایم میدان میں آگئی، ایک طرف ایم کیو ایم اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطالبہ کرتی ہے لیکن دوسری جانب تاجروں اور صنعت کاروں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں ، ایم کیو ایم پاکستان اور کراچی چیمبر کے برسر اقتدار گروپ کے گٹھ جوڑ سے ملک کے دیگر اضلاع کے برعکس کراچی میں ضلع کی سطح پر نئے چیمبر ز کے قیام ممنوع ہو گا،تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار،سید امین الحق،ارشد عبداللہ وہرہ اور احمد سلیم صدیقی نے قومی اسمبلی میں ٹرید آرگنائزیشن ایکٹ 2013 میں مزید ترمیم کا ایک بل پیش کیا گیا، بل میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ میں جہاں ہر ضلع میں تاجروں کا چیمبر قائم ہو گا ، کا لفط لکھا ہے وہاں ضلع کا لفظ ختم کر کے شہر کا لفظ شامل کر دیا جائے ، ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ اس بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے ،اب اس ترمیم بارے فیصلہ ایوان کرے گا،ایم کیو ایم نے اس بل کے ذریعے یہ چاہتی ہے کہ کراچی شہر میں ضلع کی سطح پر چیمبر نہ بنیں بلکہ صرف کراچی میں صرف ایک ہی چیمبر رہے ،2013 کے ایکٹ میں ایک جانب خواتین کو موثر نمائندگی کے لئے خواتین چیمبر قائم کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کےساتھ کاروباری اداروں اور تاجروں کے لئے مضبوط، متحد، اور زیادہ مؤثر نمائندگی فراہمی کے لئے ہر ضلع میں چیمبر کے قیام کی اجازت دی گئی تھی،اس ایکٹ کی منظوری کے بعد ملک کے درو دراز اضلاع میں چیمبرز قائم ہو ئے اور ان کی آواز ایوانوں تک پہنچی،2013 کے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت ہی کراچی میں 3 خواتین کے چیمبرز بن چکے ہیں جبکہ ضلع کی سطح پر ملیر،کیماڑی اور ایسٹ چیمبر کے قیام کی درخواستیں وزارت تجارت میں جمع ہو چکی ہیں ،اگر ایم کیو ایم پاکستان کی یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو نہ صرف نئے چیمبر ز کی درخواستیں مسترد ہو نگی بلکہ خواتین کے قائم ہو نے والے چیمبر بھی ختم ہو جائیں گے،ضلع کی سطح پر چیمبرز قائم کرنے والے تاجروںکا کہنا ہے کہ کے سی سی آئی میں ایک مخصوص ٹولے کی اجارہ داری ہے ،وہ ہمیشہ اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہیں ،کراچی میں 6 لاکھ سے زیادہ تاجر اور صنعت کار ہیں ،ایف بی آر میں رجسٹرڈ تاجروں کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ کراچی چیمبر کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے 3 سے 4 ہزار ووٹرز آتے ہیں ،اس طرح برسر اقتدار گروپ کی اجارہ داری قائم رہتی ہے ،دوسری جانب ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کردہ بل میں فاروق ستار نے موقف اختیار کی کیا ہے ضلع کی سطح پر چیمبرز کے قیام سے کراچی کے تاجروں کی ایک موثر آواز نہیں رہے گی ،کراچی کے کاروباری برادری کا متحد موقف کمزور ہو گا . ایک کم اجتماعی طاقت میں کمی آئے گی
