کراچی ( نیوزلیب رپورٹ )وفاقی حکومت نےگوادر کو علاقائی لاجسٹک مرکز بنانے کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے گوادر پورٹ پر ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے ،،وفاقی وزیر جنیدانوارچوہدری کا کہنا ہے کہ ٹیرف میں کمی کا فیصلہ عالمی ٹرانزٹ ٹریفک بڑھانے کیلئے کیا گیا ہے،اس فیصلے کے تحت کنٹینر بردار جہازوں کی برتھنگ فیس میں 25 فیصد، انٹرنیشنل ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز پر پورٹ چارجز میں 40 فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ ٹرانزٹ کنٹینر کارگو پر پورٹ چارجز 31 فیصد تک کم کئے گئے ہیں،گوادر پورٹ پر درآمدی ، برآمدی کارگو کیلئے 30 روزہ مفت اسٹوریج سہولت فراہم کی جائے گی ، اس سے ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کی حوصلہ افزائی ہو گی ،وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ممکنہ جنگ ،پابندیوں کی صورت میں گوادر ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستے کے طور پر کام کر سکتا ہے، گوادر سے ایران کے مشرقی علاقوں ،وسطی ایشیا ء تک رسائی پاکستان کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کئی سو کلومیٹر کم ہے، حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال آبنائے ہرمز میں کسی ممکنہ جنگ یا پابندیوں کی صورت میں گوادر ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستے کے طور پر کام کر سکتا ہے، گوادر پورٹ مستقبل میں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بننے جا رہا ہے اور خطے میں اس کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ گوادر پورٹ کا اپروچ چینل ملک کی تمام بندرگاہوں میں سب سے مختصر ہے جس کی لمبائی تقریبا ساڑھے چار کلومیٹر ہے۔ گوادر سے زاہدان اور وہاں سے وسطی ایشیا ء تک ایک تجارتی راستہ موجود ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں چین سے آنے والے کنٹینرز کا پہلا قافلہ اسی راستے کے ذریعے کامیابی سے گوادر پورٹ پہنچایا گیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوادر میں چین اور وسطی ایشیا کو خطے سے جوڑنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔کم ترین ٹیرف، جدید سہولیات اور اسٹریٹجک محل وقوع کی بدولت گوادر پورٹ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری بننے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے
