کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) پاکستان کا خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم ،پاکستان نے پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کردیا،زمین کا تفصیلی مشاہدہ اب آسان ہو جائے گا، ہائپرل اسپیکٹرل ایمجنگ سیٹلائٹ ایچ ایس ون 130 بینڈ پر مشتمل ہے۔ اسے سپارکو نے چین کے سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ایچ ایس 1 سے لانچ کیا ہے۔ یہ جدید سیٹلائٹ جدید ترین ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔سیٹلائٹ سیکٹروں اسپیکٹرل بینڈزمیں انتہائی درست معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتاہے، ایچ ایس ون سےزمین کے استعمال، فصلوں، آبی وسائل، شہری ترقی کا درست تجزیہ ممکن ہوگا، یہ سیٹلائٹ زمین کے ہر زرے کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نگرانی جنگلات کی کٹائی اورشہروں کی توسیع میں معاون ہوگی، ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کیا ہے اس بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے لیے استعمال ہونے والا سیٹلائٹ ہوتا ہے جو ہائیپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے روشنی کی سینکڑوں باریک طولِ موج کو ریکارڈ کرتا ہے۔یہ طریقہ کار زمین کی سطح کا ایک نہایت تفصیلی “سپیکٹرل فنگر پرنٹ فراہم کرتا ہے، جس کی مدد سے وہ مادی عناصر اور کیمیائی ترکیبوں میں موجود نہایت معمولی فرق کو بھی شناخت کر سکتا ہے،ایسے فرق جو عام سیٹلائٹ کیمروں سے نظر نہیں آتے، کیونکہ وہ صرف چند وسیع رنگوں (جیسے سرخ، سبز اور نیلا) کی روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ سے حاصل شدہ معلومات درج ذیل جدید مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہیں ،درست زرعی نظام ،ماحولیاتی نگرانی ،شہری پلاننگ اور آفات پر قابو پانے کا نظام ، اس کی لانچنگ سے پاکستان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، اس سے مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے میں مدد ملے گی یہ جغرافیائی خطرات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے لیے استعمال میں لانے کی جانب پیش رفت ہے
