کراچی (نیوزلیب رپورٹ)پاکستانی عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی،یورپی ممالک میں پھیلنے والاخطر ناک تیزبخار،سپر فلو، پاکستان پہنچ چکا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کے مریض بڑھ رہے ہیں ، طبی ماہرین کا کہنا ہےگنجان آباد شہری علاقوں میں سپر فلو کے کیسز میں ’تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ،کثیر المنزلہ عمارتوں میں رہنے والے خاندان، بازاروں میں جانے والے افراد اور شادیوں میں شرکت کرنے والے لوگ قریبی جسمانی میل جول کے باعث زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی ، فیصل آباد اور دیگر میں سپر فلو کے کیس بہت تیزی سے سامنے آرہے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ انفلوئنزا اے۔ایچ 3این 2۔ کی ایک تبدیل شدہ قسم ہے جس میں متعلقہ وائرسز کے مقابلے میں متعدد جینیاتی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ چند ماہ میں عالمی سطح پر انفلوئنزا کی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک میں فلو کی سرگرمی معمول کے موسم سے پہلے ہی بڑھتی دیکھی گئی ہے۔ڈبلیو ایچ او اس بات پر زور دیتا ہے کہ انفلوئنزا عام ہے اور بتدریج جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے موسمی طور پر ارتقا پذیر رہتا ہے، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور ویکسینیشن ضروری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق پاکستان کے بزرگ اور کمزور امیون سسٹم والے افارد اس وائرس سے ’زیادہ خطرے میں ہیں،یہ جب فلو نمونیا میں تبدیل ہو جاتا ہے تو مریضوں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد میں وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس وقت فلو کا پھیلاؤ کے عروج کے مرحلے میں ہے،ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ برطانیہ میں اضافے کا سبب بننے والا نیا،سپر فلو پاکستان میں بھی پایا جا رہا ہے اور ملک کے بعض حصوں میں چھانے والی شدید دھند وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا رہی ہے ،طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’احتیاطی تدابیر معمول کے مطابق ہیں، جن میں ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور علامات رکھنے والے افراد سے فاصلہ رکھنا شامل ہے۔ علامات کی صورت میں مریضوں کو اینٹی بایوٹکس کی طرف جلدی نہیں جانا چاہیے بلکہ آرام کریں، گرم مشروبات لیں اور صحت بخش غذا استعمال کریں۔ بزرگوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کے شکار افراد کو ضرور ویکسین لگائی جائے،ماہرین کے مطابق’’پاکستان میں اس قسم سے منسلک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں، تاہم فلو اور سینے کی پیچیدگیوں کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بچے گھروں میں اس وائرس کو پھیلانے کا بڑا سبب ہیں اور اکثر وائرس بزرگ اہلِ خانہ تک منتقل کر دیتے ہیں،طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ ’’مریض کو ماسک پہننا چاہیے، بار بار ہاتھ دھونا چاہیے اور کمروں میں مناسب ہوا کی آمدورفت برقرار رکھنی چاہیے۔‘‘ جلد صحت یابی کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا اور متوازن غذا ضروری ہے۔
