کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) وزیراعظم پاکستان کی ہاؤسنگ اسکیم ،،،،،وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،گھر ہو تو اپنا، اب مزید آسان اور قابل قبول بنا دی گئی ہے ،اس اسکیم کے تحت 50 سے 60 ہزار ماہانہ کمانے والا 40 سے 50 لاکھ تک کا قرض حاصل کر سکتا ہے ، ایک لاکھ ماہانہ آمدنی پر 70 سے 80 لاکھ تک کا قرض مل جائے گا ،تنخواہ دار افراد کو شناختی کارڈ کے ساتھ صرف سیلری سلپ دینا ہو گی، نئی اسکیم کے تحت کسی بھی پیشے کو منفی پیشہ قرار نہیں دیا گیا، دودھ فروش ،مرغی فروش،گھریلو ملازم، ڈرائیور ،ورکشاپ پر کام کرنے والے ،پرائیویٹ ملازمت کرنے والے،صحافی، وکلا، ججز، پولیس اہلکار فوجی افسران و اہلکار،سیکورٹیز گارڈ،دکاندار، سب اس اسکیم کے تحت قرض حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ نئی اسکیم میں اوورسیز پاکستانی بھی شامل کر لئے گئے ہیں ، قرض صرف نیا گھر بنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ بنا بنایا گھر یا فلیٹ خریدنے کے لئے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ،صرف ایک شرط ہے کہ اس فرد کے نام پر پہلے کوئی گھر یا پلاٹ نہیں ہونا چاہیے ،یہ تمام باتیں اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد عباسی نے وزیراعظم کی ہاؤسنگ اسکیم پر منعقدہ ورکشاپ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائیں، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر کے سربراہ کی آمدنی کم ہے تو وہ اپنی بیوی بچوں ،بھائی وغیر ہ اگر کماتے ہیں تو انھیں بھی شامل کر کے زیادہ قرض حاصل کر سکتا ہے ،مزدور ،ڈرائیور ، دکاندار وغیرہ کو بجلی کے بل یا بچوں کی فیسوں کی بنیاد پر قرض مل سکتا ہے ،غلام محمد عباسی کے مطابق ایک ہاؤسنگ قرض کے لیے چار افراد مشترکہ طور پر بھی درخواست دے سکتے ہیں ، قرض کی اقساط ماہانہ قرض کی قسط قرض لینے والے کی تنخواہ کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، حکومت 10 سال تک قرض پر سبسڈی دے گی ،قرض لینے والا اس مقصد کے لئے اسلامی بینک کاری سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے ،قرض کے حصول میں اسلامی اور نان اسلامی کی کوئی تفریق نہیں ،سب قرض حاصل کرنے والوں کو 5 فیصد مارک اپ دینا ہو گا،اور یہ سہولت 10 سال کے قرض پر ہو گی اور اگر قرض حاصل کرنے والا اپنا قرض 10 سال سے پہلے واپس کرنا چاہے گا تو اس پر بھی کوئی جرمانہ نہیں ہو گا، قرض حاصل کرنے کے لئے پورٹل پر فارم موجود ہے ،اگر پورٹل پر فارم بھرنے میں کوئی مسئلہ ہے تو فارم ڈاون لوڈ کر کے اسے بھر کر اپنے کسی بھی بینک میں جمع کرا سکتے ہیں ،2 ہفتے میں بینک مثبت جواب نہ دے تو اسٹیٹ بینک کی ،سنوائی ،پورٹل پر شکایت درج کرائیں، تمام بینک برانچوں میں بھی فارم موجود ہیں وہاں سے بھی فارم لیکر بھر کر جمع کرائے جا سکتے ہیں ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک کے مطابق فلیٹ یا گھر خریدنے کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ گھر 10 مرلے یا 250 مربع گز سے بڑا نہ ہو ،اس کے ساتھ فلیٹ کا رقبہ 1500 اسکوئر فٹ سے زیادہ نہ ہو، بینک وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر کے افراد سے ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں وصول کر رہے ہیں، حکومت نے رواں مالی سال میں قرضوں پر سبسڈی دینے کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے ہیں،اسٹیٹ بینک کے مطابق قرض حاصل کرنے کے لئے بینک کوئی پروسیس فیس وصول نہیں کرے گا،اگر آمدنی کم ہے اور گھر یا فلیٹ زیادہ قیمت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی رقم بھی اس میں شامل کر سکتے ہیں ، پاکستان کے چھوٹے بڑے 31 بینک یہ درخواستیں وصول کر رہے ہیں ،،اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت 70 سے 80 فیصد ہاؤسنگ فنانس درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں، اور جلد ایک علیحدہ اور مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد اس شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے،اس لئے قرض حاصل کرنے کے خواہش مند جلدی کریں ،کرائے کی جگہ اپنا گھر یا فلیٹ حاصل کریں
