کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) گٹکا، ماوا اور مین پوری کو تیار یا فروخت کرنے والے ہو جائیں ہوشیار،اب ان کے خلاف منشیات قانون کے تحت کاروائی ہو گی ، سندھ کا بینہ نے ماوا،گٹکا اور مین پوری کو نشہ آور اشیاء میں شامل کر لیا ہے ، تفصیلات کے مطابق نوجوان نسل کو گٹکا، ماوا اور دیگر مضر صحت اشیاء سے بچانے کے لیے صوبائی کابینہ نے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے تاکہ گٹکا، ماوا اور مین پوری کے خاتمے کے لیے سخت ترین قانونی اقدامات کیے جاسکیں ،جمعرات کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی گئی ،اس ترمیم کے تحت گٹکا، ماوا، مین پوری کو منشیات میں شامل کر لیا گیا ہے ، نئی ترامیم کے تحت ان اشیاء کی تیاری، فروخت، قبضے اور نقل و حمل کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے،ترمیم شدہ قانون میں ان اشیاء کو رکھنے اور ان کی اسمگلنگ کے لیے مقدار کی بنیاد پر سزا کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ 5 کلوگرام تک مقدار رکھنے پر 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔ 5 سے 25 کلوگرام تک مقدار پر ایک سال تک قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ 25 سے 100 کلوگرام تک مقدار رکھنے پر 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا
