کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )حکومت کا گیس کمپنیوں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈکو واپڈا کی طرح الگ الگ ٹرانسمیشن اور ڈسٹر ی بیوشن کمپنیوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ،عالمی بینک کی معاونت سے تیار کردہ روڈ میپ کے تحت 2کی بجائے 5 کمپنیاں ہو نگی،حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے کراس سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا، گیس کے شعبے میں سرکاری اجارہ داری کے خاتمے کی جانب پیش رفت اورنجی شعبے کے لیے گیس مارکیٹ میں مسابقت کے دروازے کھولے جائیں گے۔اس سلسلے میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور عالمی بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے ساتھ ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں اس منصوبے کا جائزہ لیا گیا،اجلاس کے بعد علی پرویز ملک نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت سے یہ روڈ میپ تیار کیا ہے، جسے حتمی شکل دے کر اگست کے اختتام تک منظوری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد اس پر مرحلہ وار عمل درآمد شروع ہوگا۔اس منصوبے کے تحت ایک مسابقتی گیس مارکیٹ قائم کی جائے گی، جس کی نگرانی مضبوط اختیارات کے حامل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سپرد ہوگی۔ اوگرا کو منصفانہ مسابقت اور مارکیٹ کے ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مزید اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ نجی کمپنیوں کو گیس کی تلاش، تجارت اور تقسیم کے شعبوں تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی، جہاں اب تک سوئی کمپنیوں کا غلبہ رہا ہے۔وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے ساتھ ایک مضبوط ریگولیٹری نظام بھی ضروری ہے تاکہ شفافیت اور صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ گیس کے شعبے میں “تحفظ یافتہ صارفین” کی تعریف پر نظرثانی کی جائے گی ، گیس کی قیمتوں میں موجود بگاڑ ختم ، اور بالآخر ایک ایسی قیمت مقرر کی جائے جو آزاد مارکیٹ میں طلب اور رسد کی بنیاد پر متعین ہو۔حکام کے مطابق اصلاحاتی پیکج میں گیس مارکیٹ ایوولوشن پلان، سرمایہ کاری کا روڈ میپ، شعبے کا مالیاتی ماڈل، قانونی اور ریگولیٹری تجزیے اور اوگرا کی استعداد کار بڑھانے کا پروگرام بھی شامل ہے۔ ان اصلاحات سے توانائی کا تحفظ بہتر ہوگا، کراس سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا، صنعتی صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں زیادہ شفافیت آئے گی، گیس ویلیو چین میں نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،انرجی سیکٹرکے ایک ماہر نے اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ اس کا صرف ایک فائدہ ہو گا کہ صارفین اور خاص طور پر گھریلو صارفین پر مالی بوجھ بڑھایا جائے گا ، کراس سبسڈی کے خاتمے سےگیس مہنگی ہو گی
