کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) جرمن حکومت نے 23 افغان شہریوں کو ملک بدر کر کے چارٹر طیارے میں کابل بھیج دیا، ملک بد ر کئے جانے والے افغانوںپرتشدد جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے ،جرمن میڈیا کے مطابق جرمن حکومت نے 2 روز قبل 23 افغان مردوں کو چارٹر طیارے کے ذریعے کابل روانہ کر دیا۔ جرمن حکومت کے مطابق طیارے میں سوار زیادہ تر افراد پرتشدد جرائم میں سزا یافتہ مجرم تھے۔ واضح رہے کہ جرمنی نے 2015 کے بعد سے لاکھوں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کو قبول کیا ہے، تاہم چانسلر فریڈرک مرز نے اس رجحان کو تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور سرحدی نگرانی اور ملک بدری میں اضافہ کیا ہے۔افغان شہریوں کے حوالے سے برلن نے اب تک ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کو ترجیح دی ہے جو جرائم میں ملوث اور سزا یافتہ ہیں۔ اس قبل جولائی میں جرمنی نے 31 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا تھا، جن میں پہلی مرتبہ ایک ایسے افغان شہری کو بھی واپس بھیجا تھا جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا تاہم اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی،جرمن وزارت داخلہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ ملک چھوڑنے کے پابند 23 افغان مردوں کو چارٹر پرواز کے ذریعے کابل روانہ کر دیا گیا۔‘‘وزارت کے مطابق، ’’ان افراد کی اکثریت سنگین جرائم، جن میں جنسی جرائم اور جسمانی نقصان پہنچانے کے جرائم شامل ہیں، ۔‘‘وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ منگل کو ملک بدر کیے جانے والے تمام افراد ’’جرمن نظامِ انصاف کی نظر میں آ چکے تھے۔‘‘وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ ’’ہمارے معاشرے کی واضح خواہش ہے کہ جرائم میں ملوث افراد ہمارے ملک سے چلے جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جس شخص کو جرمنی میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، اسے ملک چھوڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اس پالیسی پر مستقل عمل درآمد کر رہے ہیں۔جرمن حکومت طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتی، جنہوں نے پانچ سال قبل کابل میں اقتدار سنبھالا تھا، تاہم جرمنی نے ملک بدری کے معاملے پر کابل کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں،جرمن میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغانوں کی ملک بدری پر شدید تنقید کی ہے، جہاں طالبان حکام اپنے قوانین نافذ کرتے ہیں۔ملک بدری کے خلاف سرگرم ایک گروپ نے اس پرواز کو مسافروں کے لیے ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیا۔گروپ کے افراد کا کہنا تھا کہ ،افغانستان سے تحفظ کے خواہاں افراد کو طالبان حکومت کے حوالے کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں سماجی اخراج، تشدد یا حتیٰ کہ موت کا سامنا ہو سکتا ہےجرمنی کی اس پالیسی پر اپوزیشن کےسیاست دانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغانستان اب بھی واپس بھیجے جانے والے افراد کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ افغانستان میں لوگوں کو من مانی حراست، تشدد اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، اور حکومتوں پر زور دیا تھا کہ وہ لوگوں کو طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان واپس نہ بھیجیں۔افغانستان میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ بھی متعدد مرتبہ افغان شہریوں کی ملک بدری کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔ جون میں انہوں نے یورپی یونین کے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو افغانستان واپس نہ بھیجیں کیونکہ طالبان کے دور میں تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔
