کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) یورپ کی طرح پاکستان میں بھی آجکل کافی کا استعمال بڑھ رہا ہے ،یورپ کے سرد ماحول میں مقبول ہونے والے کئی بڑے کافی برانڈز پاکستان میں اپنے آوٹ لیٹس کھول رہے ہیں ،نئی نسل میں کافی شاپ کا فیشن پروان چڑھ رہا ہے ،تاہم اب چونکا دینے والی رپورٹ یہ سامنے آئی ہے کہ کافی اور کاکروچ کا جنم جنم کا رشتہ ہے ،کافی پینے والے کاکروچ کا پاوڈر بھی پینے پر مجبور ہیں ، کافی اور کاکروچ کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ اب تو امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اگر کافی پاوڈر میں 10 فیصد تک کا کروچ کے پاوڈر کی آمیزش ہو جائے تو یہ قابل قبول ہے کیونکہ کافی کے نٹس کو گرینڈ کرتے وقت کاکروچ کے ٹکڑوں کا ان سے مکمل الگ کرنا ممکن نہیں، اس لئے کافی بینز کے ہر تھیلے کا 10 فیصد تک کاکروچ سمیت دیگر کیڑوں کے ٹکڑوں سے آلودہ ہو نا ممکن ہے۔
،اس چونکا دینے والی رپورٹ سے متعلق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کافی میں 10 فیصد تک کاکروچ کے ذرات کی آمیزش زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ ہے، لیکن الرجی کے شکار افراد کے لیے یہ خطرناک ہو سکتی ہے ،ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کافی پینے والوں کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ جو کافی پی رہے ہیں اس کے ساتھ کا کروچ کا ذرات بھی پی رہے ہیں تاہم طبی ماہرین کی رائے ہے کہ کافی کی پھلیاں کی کٹائی، پروسیسنگ اور پیسنے کے دوران، کھیتوں، ذخیرہ کرنے کی سہولیات، یا پیداواری پلانٹس میں پھلیوں کے ساتھ رابطے میں آنے والے کیڑے جیسے آلودگیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ان کیڑوں میں کاکروچ بھی شامل ہیں، جو کہ ان علاقوں میں جہاں کافی زیادہ تر کاشت ہوتی ہے وہاں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ،امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے کافی میں 10 فیصد تک ایسے ذرات شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے ، ایف ڈی اے کے مطابق، آلودگی کی یہ کم سطح انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے۔اگرچہ کافی میں کیڑوں کے ذرات کا خیال ناخوشگوار ہوسکتا ہے، لیکن یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ سطحیں کم ہیں اور صحت کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو کرسٹیشینز سے الرجی ہے انہیں گراؤنڈ کافی پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ اکثر کاکروچ میں پائے جانے والے ٹروپومیوسین نامی پروٹین پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں،کرسٹیشین الرجی کی علامات میں ایک سرخ دھبے شامل ہیں جو جسم پر کہیں بھی نمودار ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ منہ میں کھجلی یا خارش، سوجن ہونٹ، چہرہ، یا آنکھیں، اور پیٹ میں درد یا الٹی، بھی اس الرجی کی علامات ہیں۔
