کراچی ( نیوز لیب رپورٹ) مصنوعی ذہانت آواز سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لئے نعمت ، 25 سال قبل ایک بیماری میں مبتلا ہو کر بولنے کی صلاحیت سے محروم ہونے والی برطانیہ کی مریضہ مصنوعی ذہانت کی بدولت ایک بار پھر اپنی آواز میں بات کرنے لگ گئی ہے ، عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت نے برطانوی خاتون کو 25 سال بعد دوبارہ اپنی آواز لوٹا دی،مصنوعی ذہانت اور ایک پرانے گھریلو ویڈیو کی بمشکل سنائی دینے والی آٹھ سیکنڈ کی ریکارڈنگ کی بدولت ایک بار پھر اپنی ہی آواز میں بات کرنے لگی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موٹر نیورون (motor neuron) کی بیماری مبتلا ایک برطانوی خاتون جو کہ 25 سال قبل بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئی تھی، مصنوعی ذہانت کی بدولت ایک بار پھر اپنی آواز میں بات کر رہی ہے ،سارہ ایزکیل جو کہ ایک برطانوی آرٹسٹ ہیں، 25 سال قبل ایم این ڈی (MND) کی بیماری میں مبتلا ہوئیں اور اس کے بعد یہ بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی۔ یہ بیماری اعصابی نظام کے کچھ حصوں کو بتدریج نقصان پہنچاتی ہے اور زبان، منہ اور گلے کے پٹھوں کو کمزور کرکے کئی مریضوں کو مکمل طور پر گونگا بنا دیتی ہے۔
بیماری کے دوران ایزیکیل کمپیوٹر اور آواز پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے بات چیت کرتی رہیں لیکن یہ آواز ان کی اپنی آواز سے بالکل مختلف تھی۔انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے اپنی تصاویر بنا کر فنکارانہ کیریئر بھی جاری رکھا۔ تاہم ان کے دونوں بچے، اویوا اور ایرک، بڑے ہوکر کبھی یہ نہیں جان سکے کہ ان کی ماں اصل میں کس طرح بولتی تھیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ماہرین نے ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کی اصل آواز کی کمپیوٹرائزڈ شکل تیار کرنے میں کافی پیش رفت کی ہے۔ مگر عام طور پر یہ تکنیک اس وقت کامیاب ہو تی ہے جب مریض کی طویل اور معیاری ریکارڈنگ دستیاب ہو،اس کے بعد بھی جو آواز تیار ہوتی ہے وہ مریض کی آواز سے کچھ ملتی جلتی ضرور ہوتی ہے مگر “بہت سپاٹ اور یکساں” لگتی ہے، میڈیکل کمیونیکیشن کمپنی اسمارٹ باکس کے سائمن پول کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ان کی کمپنی نے ایزیکیل سے ایک گھنٹے کی ریکارڈنگ مانگی تھی۔ ایسے مریض جنہیں (MND) جیسی بیماری کے باعث بولنے کی صلاحیت کھونے کا خدشہ ہو، اُنہیں اپنی آواز فوراً ریکارڈ کر لینے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ اُن کی شناخت اور بات چیت دونوہ محفوظ رہ سکیں۔
تاہم جب سارہ ایزکیل اس بیماری کا شکار ہو ئیں اس وقت اسمارٹ فون نہیں تھا اور اسمارٹ فون سے پہلے کے زمانے میں مناسب ریکارڈنگ دستیاب ہونا مشکل ہو تا ہے ،جب ایزیکیل کو صرف ایک نہایت مختصر اور خراب معیار کا کلپ ملا تو پول نے کہا کہ ان کا “دل بیٹھ گیا”۔ کیونکہ یہ کلپ ردی ناکارہ کلپ تھا ،1990کی دہائی کی ہوم ویڈیو کا یہ کلپ صرف آٹھ سیکنڈ کا تھا، مدھم آواز کے ساتھ اور پس منظر میں ٹی وی کا شور بھی شامل تھا۔لیکن پول نے ہمت نہیں ہاری اور نیویارک کی کمپنی الیون لیبز کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جو نہ صرف کم سے کم ریکارڈنگ پر مبنی آواز بنا سکتی ہے بلکہ اسے زیادہ حقیقی انسانی آواز جیسا بھی بناتی ہے۔ انہوں نے ایک AI ٹول سے کلپ سے آواز کا نمونہ الگ کیا اور ایک دوسرے ٹول کو حقیقی آوازوں پر تربیت دے کر خالی جگہیں پُر کیں تاکہ مکمل آواز تیار ہوسکے۔اس کانتیجہ، ایزیکیل کے لیے خوشی کا باعث بنا کیونکہ یہ ان کی اصل آواز سے نہایت قریب تھا، ان کے لندن والے لہجے اور اُس ہلکی لکنت کے ساتھ جسے وہ کبھی ناپسند کرتی تھیں۔پول کے مطابق “میں نے انہیں آواز کے نمونے بھیجے تو انہوں نے ای میل میں لکھا کہ یہ سن کر وہ تقریباً رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنے ایک پرانے دوست کو سنایا اور اس نے کہا کہ یہ بالکل ان کی اپنی آواز جیسی ہے، جیسے وہ کبھی کھوئی ہی نہیں تھی۔”موٹر نیورون ڈیزیز ایسوسی ایشن کے مطابق، دس میں سے آٹھ مریض تشخیص کے بعد آواز کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔تاہم موجودہ کمپیوٹر سے تیار کردہ آوازوں کا وقت، آہنگ اور لہجہ “کافی مشینی” سا ہوتا ہے۔ “اس نئی مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی یہ ہے کہ آوازیں حقیقتاً انسانی اور پراثر لگتی ہیں اور اس میں وہ انسانیت واپس آجاتی ہے جو پہلے کچھ حد تک کمپیوٹرائزڈ محسوس ہوتی تھی،” پول نے کہا کہ کسی شخص کی آواز کو ذاتی بنانا دراصل اس کی شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔
