کراچی ( نیوزلیب رپورٹ )کینیڈا جانے کے خواہش مند ڈاکٹروں کے لئے خوش خبری،کینیڈا حکومت نے ملک میں ڈاکٹروں کی قلت فوری طور پر دور کرنے کے لئے غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے 14 روزہ فاسٹ ٹریک ورک پرمٹس متعارف کرا دیا ہے، یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں ملک گیر قلت سے نمٹنے کے لیے ایک بڑے اقدام کے تحت کیا گیا ہے ،کینیڈا حکومت کے اس فاسٹ ٹریک امیگریشن سسٹم کے تحت اہل غیر ملکی ڈاکٹروں کو محض 14 دن میں ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا، کینیڈا میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اعلان امیگریشن کی وزیر لینا میٹلج دیاب اورصحت کی پارلیمانی سیکرٹری میگی چی نے مشترکہ طور پر کیا،ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عالمی سطح پر طبی ماہرین کو کینیڈا کے دباؤ کا شکار صحت کے نظام کی جانب راغب کرنا ہے،اس پالیسی سے مختلف صوبوں اور علاقوں کے اسپتالوں اور کلینکس میں فوری عملے کی کمی کو پورا کرنا ہے۔نئی پالیسی کے تحت وہ ڈاکٹرز جو کسی صوبے یا علاقے سے نامزدگی حاصل کریں اور ساتھ ہی ملازمت کی پیشکش رکھتے ہوں گے،وہ اس تیز رفتار پراسیسنگ کے اہل ہوں گے۔ یہ پرمٹ ڈاکٹروں کو اس دوران کینیڈا میں کام شروع کرنے یا جاری رکھنے کی اجازت دیں گے جب ان کی مستقل رہائش کی درخواست زیرِ غور ہو گی، باہر سے آنے والےڈاکٹروں کو کینیڈا میںطویل عرصہ تک روکنے کے لئے کینیڈا حکومت نے پروونشل نومینی پروگرام کے تحت لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کیلئے5 ہزاراضافی مستقل رہائش کی نشستیں بھی مختص کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان ڈاکٹروں کو کینیڈا میں روکنے میں مدد ملے گی جو پہلے ہی صحت کے نظام میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ، ایک علیحدہ ایکسپریس انٹری کیٹیگری بھی متعارف کرائی جائے گی جو ایسے ڈاکٹروں کے لیے مخصوص ہوگی جن کے پاس کینیڈا میں کم از کم ایک سال کا حالیہ کام کا تجربہ ہو۔ یہ کیٹیگری 2026 کے اوائل میں شروع کئے جانے کی توقع ہے، جس سے غیر ملکی تربیت یافتہ طبی ماہرین کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔لینا دیاب نے کہا کہ “کینیڈا کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بہترین عالمی صلاحیتوں کو متوجہ کر کے مضبوط معیشت تعمیر کرے” انھوں نے کہا کہ یہ نئے راستے صحت کے شعبے کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوں گے ، یہ پالیسی دنیا بھر سے ماہر طبی پیشہ ور افراد کو راغب کر کے کینیڈا کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔۔اس اقدام سے اُن دیرینہ رکاوٹوں میں کمی آنے کی توقع ہے جن کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر تربیت یافتہ ڈاکٹر شدید عملے کی قلت کے باوجود عملی میدان سے باہر رہے
