کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) ماہرین امراض اطفال کی رائے، آجکل کی مائیں اپنے بچوںکو ذہنی مریض بنا رہی ہیں ،مائوں کی جانب سے اپنی ذمہ داری پوری نے ہونے کی وجہ سے بچے ابتدائی عمر سے ہی ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ،پرورش میں مائوں کی لاپروائی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صلاحتیں اور نشوونما شدید متاثر ہورہی ہے ، نوزائیدہ بچوں کا دماغ ہر سکینڈ میںڈیولپ ہوتا ہے اور مائیں لاعلمی میں روتے ہوئے بچوں کو بہلانے کے لیے موبائل فون پر کوئی کارٹون یا فلم لگا کر بچوں کو سامنے رکھ دیتی ہیں جس سے بچے کے دماغ پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے،اس رائے کا اظہار مختلف ماہرین اطفال نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں2 روزہ قومی کانفرنس برائے امراض اطفال سے خطاب کرتے ہوئے کیا،معروف اطفال پروفیسر ایم اے عارف ، پروفیسر اقبال میمن، پروفیسر جمال رضا، پی پی اے سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی، سیکریٹری ڈاکٹر سعدالہ چاچڑ، پروفیسر خالد شفیع، پروفیسر محسنہ نور ابراھیم، ڈاکٹر راحت اور دیگر نے کانفرنس میں بچوں میں بیماریوں کی روک تھام اور بچوں کی شرح اموات کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اپنے تجربات اور سفارشات پیش کی جائیں گی، پروفیسر جمال رضا نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی ذہنی نشوونما میں مائوں کی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، آجکل مائوں نے اپنے بچوں کو موبائل فون کے حوالے کردیا ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کررہی ہے اور بچے ابتدائی عمر میں ہی ذہنی خلفشار کا شکار ہورہے ہیں، نوزائیدہ بچوں اور مائوں کا انٹرایکشن بچے کی نشوونما میں بہت ضروری ہے جس کی جانب مائیں توجہ نہیں دے رہی۔ پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر سعداللہ اور ڈاکٹر خالد شفیع چاچڑ اور دیگر نے اپنے مقالوں میں کہا کہ ، بچوں کی بیماری کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر علاج کے لیے ماہرین اطفال سے رجوع کریں کیونکہ علاج بچے کا بنیاد حق ہے اور بچوں کو انکے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں نوزائیدہ اور 5 سال کے عمر تک کے بچوں کے علاج ومعالجے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیلی میڈیسن کو مضبوط نظام بنانے کے لیے حکومت سندھ کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔ ان ماہرین نے کہا کہ پی پی اے کی کوشش ہے کہ دیہی علاقوں میں بیمار ہونے والے بچوں کو فوری پرائمری طبی امداد پہنچاکر بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ہم بچوں کی شرح اموات پر قابو پاسکے۔ ان ماہرین نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کرانے سے بچے میں قوت مدافعت اور قوت اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے، ماں کا دودھ قدرتی طور پر بیکٹریا سے پاک ہوتا ہے، نوزائیدہ بچوں کو دوسال تک ماں کا دودھ پلانا لازمی ہے، مصنوعی دودھ کے خلاف قانون پاس ہوچکا ہے، کوشش کررہے ہیں کہ مارکیٹ میں مصنوعی دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاہم اگر کسی نوزائیدہ کو مصنوعی دودھ کی ضرورت پڑے تو ڈاکٹر کے نسخے پر دودھ فراہم کیا جاسکے گا
