کراچی ( نیوز لیب رپورٹ) ہراسانی کیس میں مونس علوی باعزت بری، گورنر سندھ نے توقعات کے عین مطابق ہراسانی کیس میں کے۔الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس علوی کے حق میں فیصلہ سنا دیا ،کے-الیکٹرک کی سابق چیف کمیونیکیشن آفیس ماہِرین عزیز خان کی جانب سے مونس علوی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی جس پر صوبائی محتسب نے مونس علوی کے خلاف فیصلہ سنایا تھا ،فیصلے میں مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کے ساتھ 25 لاکھ کا جرمانہ کیا گیا تھا ،تاہم بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او کے الیکٹرک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل کر دیا تھا اور صوبائی محتسب کے خلاف درخواست پر گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں مونس علوی کی اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا ،اب گورنر سندھ نے کے-الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی کے خلاف کام کی جگہ پر ہراسانی کی شکایت کے سلسلے میں صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی محتسب کے 31 جولائی 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نمائندگی کی سماعت کے بعد کیا گیا۔7 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں گورنر نے مشاہدہ کیا کہ محتسب کے سامنے پیش کیا گیا ریکارڈ بنیادی طور پر کام سے متعلق اور انتظامی معاملات کی عکاسی کرتا ہے، جن میں تحریری خط و کتابت، واٹس ایپ پیغامات اور کارکردگی و محکماتی امور سے متعلق بورڈ سطح کی گفتگو شامل ہے، جبکہ شکایت میں لگائے گئے الزامات کے واقعات کی تائید کرنے والا شواہد موجود نہیں تھے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمت کے خاتمے کا فیصلہ چیف ایگزیکٹیو مونس علوی نے نہیں بلکہ اعلیٰ اتھارٹی کے ۔الیکٹرک بورڈ کی ایچ آر کمیٹی نے کیا تھا، گورنر فیصلے کے مطابق صوبائی محتسب کے متنازعہ حکم دستیاب ریکارڈ پر موجود مواد کو حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل مناسب طور پر نہیں پرکھ سکا۔ انہی بنیادوں پر گورنر نے صوبائی محتسب کا حکم منسوخ کر دیا، دوسری جانب شکایت کندہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مونس علوی کے اثر و رسوخ کی وجہ سےاسی طرح کے فیصلے کی توقعات تھیں
