کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) شہر قائد میں رہائش کا بحران اب ایک مکمل سماجی اور معاشی تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے، کچی آبادیوں میں مسلسل اضافے سے میگا سٹی کی 60 فیصد سے زائد آبادی کچی آبادیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے،ہمارا حکمراں طبقہ تو عوام کے بنیادی مسائل پر بات کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو ان مسائل سے آگاہ بھی نہیں ،ایک اچھی بات یہ ہے کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور ہمیشہ اس طرح کے بنیادی عوامی مسائل کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں اگرچہ ان کی آواز نقار خانے میں کوئی نہیں سنتا لیکن ایسے مسائل کی نشاندہی سے ان کی درد مندی اور خلوص کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کراچی میں سستا رہائشی مکان عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ حکومت نے رہائش کے اہم شعبے کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رکھا ہے تاکہ طاقتور رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز اور لینڈ مافیا کو فائدہ پہنچایا جا سکے ،کراچی میں عام شہری بدترین حالات میں رہنے پر مجبور ہیں اور کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں،شہر قائد میں رہائش کا بحران اب ایک مکمل سماجی اور معاشی تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔2کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں لاکھوں کی تعداد میں گھروں کی کمی ہے اور شہری منصوبہ بندی کے اندازوں کے مطابق 60 فیصد سے زائد لوگ غیرقانونی یا غیر رسمی آبادیوں میں رہتے ہیں جو اکثر نالوں کے کنارے یا متنازع زمینوں پر قائم ہیں۔ باقاعدہ ہاؤسنگ مارکیٹ 80 فیصد عوام کی آمدنی سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہے اور صرف امیر طبقے اور سرمایہ کاروں کے لیے بنائی گئی ہے۔ کراچی کی زمین مختلف اداروں کے کنٹرول میں ہے جن میں سندھ حکومت، کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے اور فوجی چھاؤنیاں شامل ہیں۔ اس تقسیم نے بیوروکریسی، کرپشن اور زمینوں پر قبضے کو فروغ دیا ہے، کراچی کی زمین مختلف اداروں کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے بدانتظامی، کرپشن اور قبضہ مافیا کو فروغ ملا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیاہ دھن چھپانے کا ذریعہ بن چکی ہے ، زمینوں کی قیمتیں مقامی آمدن سے کہیں زیادہ غیر حقیقی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ لینڈ مافیا کھربوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کر کے کچی آبادیاں قائم کر رہی ہے۔ حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر کوئی مؤثر اور عوامی فنڈ سے چلنے والا سستے گھروں کا منصوبہ موجود نہیں،کے ڈی اے نے دہائیوں سے کوئی بڑا ہاؤسنگ منصوبہ نہیں دیا، ایل ڈی اے 40سال گزرنے کے باوجود ہاکس بے اسکیم 42کو ترقی دینے میں ناکام رہی ہے جبکہ ایم ڈی اے کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ حالیہ اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی متبادل آبادکاری منصوبہ موجود نہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی ہے ریاست پر عدم اعتماد بڑھ گیا
،انھوں نے اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کی تجاویز بھی دیں ہیں اور کہا ہے کہ پورے کراچی کے لیے ایک متحد اور شفاف لینڈ اتھارٹی قائم کی جائے، نجی ڈویلپرز اور بلڈرز کو پابند کیا جائے کہ وہ سستے گھروں کا کوٹہ لازمی رکھیں ۔ موجودہ کچی آبادیوں کو اپ گریڈ کر کے لیز اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کم آمدنی والے طبقات کے لیے آسان ہاؤسنگ فنانس متعارف کرایا جائے۔ بی آر ٹی جیسے منصوبوں کو سستے رہائشی علاقوں سے منسلک کیا جائے،سندھ حکومت کے ڈی اے فوری طور پر کم آمدنی والے شہریوں کے لیے میگا ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کرے اور ایل ڈی اے ہاکس بے اسکیم 42پر ترقیاتی کام شروع کر کے الاٹیز کو قبضہ دے۔
