کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) سولر پینل کی قیمت میں کمی کے لئے پینل بنانے والی یورپی کمپنیوں نے چاندی کی بجائے تانبے کے استعمال کے استعمال کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کامیابی کی صورت میں عالمی سطح پر تقریباً 15 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے،عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینل بنانے والی کمپنیوں نے چاندی کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 130 فیصد اضافے کے بعد اسے تانبے جیسے متبادل دھاتوں سے تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں، سولر مینوفیکچرز کا خیال ہے کہ چین میں پیداواری گنجائش کی زیادتی کے باعث پہلے ہی ان کے منافع کے مارجن کم ہو تا جا رہا ہے ، دوسری جانب چاندی کی قیمت میں اضافے سے ان کی مشکلات بڑھ رہیں ہیں ،ایک بڑی یورپی عالمی سولر کمپنی کے کنسلٹنٹ کا کہنا ہے کہ سولر پینل کی تیاری کی لاگت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ چاندی ہے۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران سولر پینلز کی قیمت میں 7 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق فوٹو وولٹیک پینلز میں استعمال ہونے والا سلور پیسٹ، جو ایک اہم جزو ہے، مجموعی سولر سیل لاگت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے،ماہرین کے مطابق گذشتہ کیلنڈر سال یعنی 2025 میں ایک جانب سلور کی قیمت 147 فیصد بڑھی ہے اور یہ 121.64 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اگرچہ اب یہ کم ہو چکی ہے لیکن دوسری جانب اس کی فزیکل سپلائی بھی محدود رہی ہے ،فوٹو وولٹیک شعبہ مجموعی چاندی کی طلب کا 17 فیصد حصہ رکھتا ہے، جنوری میں چاندی کی قیمت محدود فزیکل سپلائی اور ریٹیل خریداری کے باعث 121.64 ڈالر فی اونس کی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر 77 ڈالر فی اونس رہ گئی۔قابلِ تجدید توانائی کے کمپنی کے ایک سربراہ کا کہنا ہے مریکہ میں 450 واٹ ماڈیول کے لیے سلور پیسٹ کی لاگت 2025 کے اوائل میں تقریباً 5.22 ڈالر تھی جو کہ بڑھ کر بڑھ کر تقریباً 17.65 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔‘‘تانبے کی جانب رجحان میں تیزی کی وجہ یہ بڑھتی لاگت ہے جس کی وجہ سے سولر پینل بنانے والی کمپنیوں کا متبادل دھاتوں خصوصاً تانبے کی طرف رجحان تیز ہو رہا ہے، جس کی قیمت حال ہی میں 12,823 ڈالر فی ٹن تھی۔چین کی معروف سولر پینل ساز کمپنی لانگی گرین انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے جنوری میں کہا تھا کہ اس نے بنیادی دھاتوں پر مبنی کم لاگت ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی ہے اور اپریل سے جون کے درمیان بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے،سولر پینل مینوفیکچرز نے اس صنعت کو چاندی سے تانبے پر منتقل کرنے کے نتیجے میں اربوں ڈالر کی بچت کا امکان ظاہر کیا ہے،سولر پینل کنسلٹنٹ کے مطابق چاندی کی جگہ تانبے پر مبنی میٹالائزیشن اختیار کرنے سے سالانہ 500 گیگاواٹ شمسی پیداوار کی بنیاد پر عالمی سطح پر تقریباً 15 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔۔
