کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) فاسٹ فوڈ اور پرسیسڈ فوڈ کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے پاکستان میں صحت کا بحران تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے ، عالمی اور مقامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ہر تین میں سے ایک بالغ فرد ہائی بلڈ شوگر کا شکار بتایا جا رہا ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے، انٹرنیشنل ڈائی بیٹیز فیڈریشن (آئی ڈی ایف ) کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، 57 فیصد خواتین اور 41 فیصد مرد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، شوگر کے مرض کا شکار ہونے والے افراد کی اکثریت موٹاپے کا شکار ہے موٹاپے کی رپورٹ تیار کرنے والے ادارے کے مطابق پاکستانی معیشت پر موٹاپے کی وجہ سے 950 ارب روپے سالانہ کے اثرات مرتب ہو تے ہیں ،پاکستان کی 30 فیصد بالغ آبادی اوور ویٹ ہے ،مردوں کی نسبت عورتیں موٹاپے کا زیادہ شکار ہیں ،اہم بات یہ بھی ہے کہ دیہات کی نسبت شہروں کی عورتیں زیادہ موٹی ہیں ،عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق شوگر کے مرض میں خطرناک اضافے کی وجہ سے پاکستان میں 74 ارب روپے سالانہ کی شوگر دوائیں استعمال ہو تی ہیں،صرف انسولین کی مارکیٹ 20 ارب روپے سالانہ سے بڑھ گئی ہے ،دوسری جانب پروسیسڈ فوڈ کا استعمال شہری علاقوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کی سالانہ گروتھ 10 فیصد سے زیادہ ہے،فاسٹ فوڈ استعمال کرنے کے لحاظ سے 188 ممالک میں پاکستان 8واں بڑا ملک بن چکا ہے،پروسیسڈ فوڈ کی مارکیٹ 1.4 ارب دالر یعنی 395 ارب روپے سے بڑھ گئی ہے،اس کے ساتھ فاسٹ فوڈ سروسز فراہم کرنے والے مختلف برانڈ کی مارکیٹ کا حجم بھی 363 ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے ،ماہرین کے مطابق صحت کے بڑھتے بحران کی وجہ ہمارے لائف اسٹائل میں آنے والی تبدیلیاں ہیں ،اگر سوسائٹی نے اس طرف توجہ نہ دی تو آنے والے دنوں میں یہ بحران قابو سے باہر ہو جائے گا ، ہمیںبیماریوں کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینی چاہیے، جس کا آغاز تعلیمی اداروں سے کیا جائے
