کراچی( نیوز لیب رپورٹ ) پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش، ایران پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیٹرولیم ڈیلرز کے چند عناصر سر گرم ہو گئے ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات پر بھاری منافع کمانے کے لئے پیٹرولیم ڈیلرز نے ذخیرہ اندوزی کے لئے کو ششیں شروع کر دی ہیں ،آئل مارکیٹنگ کمپنی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے ،اس لئے اچانک ڈیلرز کی جانب سے اضافی آرڈرز آنا شروع ہو گئے ہیں ، بیشتر ڈیلرز اضافی آرڈرز سے پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر کے منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں ،مارکیٹنگ کمپنیوں کا موقف ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور منافع کے حصول کے لیے وہ ڈیلرز بھی زیادہ آرڈر کر رہے ہیں جن کی فروخت کا چھ ماہ کا اوسط ان آرڈرز کی نسبت بہت کم ہے،ڈیلرز کی جانب سے اچانک ڈیمانڈ بڑھ جانے اور مشرق وسطی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میںذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ڈیلرز کے لیے کوٹہ مقرر کردیا ہے۔ اور تمام ڈیلرز کا گذشتہ 6 ماہ کا ریکارڈ حاصل کر کے چھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے انھیں سپلائی دی جارہی ہے اس اقدام کا مقصد تمام پمپوں کو سپلائی یقینی بنانا ہے تاکہ کہیں پر ذخیرہ اندوزی نہ ہوسکے،انڈسٹری ذرائع کے مطابق چند لالچی افراد کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہو ئی ہیں تاہم ان چند عناصر کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات بارے عوام میں ابھی سے بے چینی پیدا کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے ،لیکن اس وقت صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے ،آل پاکستان پٹرول پمپ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے ایک ہنگامی خط میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے موقف کی تصدیق ہو ئی ہے ،خط میں میں کہا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے باعث پٹرول پمپس کو مطلوبہ مقدار میں تیل فراہم نہیں کیا جا رہا۔پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے خط میں کہا ہے کہ آرڈرز دینے کے باوجود آئل سپلائی تاخیر کا شکار ہے اور ٹینکرز گھنٹوں انتظار پر مجبور ہیں، اس صورتحال کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہونے سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل کمپنیوں کو کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے سے قبل مشاورت کا پابند بنایا جائے۔
