کراچی ( نیوزلیب رپورٹ )پی ٹی آئی کے سینئر رہنماوں نے کہا ہے کہ عالمی کشیدگی کے باعث ہمارا محدود معاشی استحکام اب خطرے میں ہے، سیاسی محاذ آرائی ختم کی جائے ،نئے چیلنجز میں سب سے نقصان دہ بات داخلی سیاسی عدم استحکام کے باعث پیدا ہونے والا بحران ہو سکتا ہے، اب روایتی طرزِ حکمرانی جاری رکھنا ممکن نہیں ،پی ٹی آئی میڈیا سیل کی جانب سے 9مئی کے مقدمات میں گرفتار وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ،ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز احمد چوہدری ، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ کے دستخطوں سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اور علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اندر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے ، پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں نے ایک بار پھر سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے ، اعتماد کی بحالی اور اور اتحاد و وقار کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ،ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنے مغربی سرحدی تنازعات، مشرقی سرحد پر کشیدہ صورتحال، بلوچستان میں شورش اور خیبر پختونخوا ہ میں دہشتگردی کی نئی لہر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ملک کے لیے سب سے نقصان دہ بات داخلی سیاسی عدم استحکام کے باعث پیدا ہونے والا بحران ہو سکتا ہے،بیان میں کہا گیا کہ بیرونی خطرات شاید ہمارے پیدا کردہ نہ ہوں مگر ان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی سمجھ بوجھ ناگزیر ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ عوام کی بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والا محدود معاشی استحکام اب خطرے میں ہے۔
دوست خلیجی ممالک جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے تھے وہ اس وقت مشرقِ وسطی میں پیدا ہونے والی کشیدگی خصوصا ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث اپنی توجہ ادھر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔پاکستان کے موجودہ زرِمبادلہ ذخائر کا ایک بڑا حصہ دوست ممالک کی جانب سے رکھوائی گئی رقوم پر مشتمل ہے، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان رقوم کے سالانہ کی بجائے ماہانہ رول اوور کی پالیسی اختیار کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں ان رقوم کے حصول میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی معاشی غیر یقینی صورتحال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو بھی متاثر کر سکتی ہے، خلیجی بندرگاہوں کی ممکنہ بندش اور شپنگ اخراجات میں اضافہ تجارت میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور پہلے سے جمود کا شکار برآمدات پر مزید دبا ئوڈالے گا۔تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہمارے درآمدی بل کو بڑھا دے گا اور موجودہ کرنٹ اکائونٹ سرپلس ختم ہو سکتا ہے، اس کے نتیجے میں پاکستان کو دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کی خواہش محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی
۔رہنمائوں نے مزید کہا کہ مہنگائی دوبارہ بڑھ رہی ہے جس کے باعث شرح سود میں کمی کی گنجائش محدود ہو گئی ہے، اسی طرح پاکستان ہر سال درکار تقریبا 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں بھی ناکام ہو رہا ہے، جس سے نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔زرعی شعبہ بھی دبا ئوکا شکار ہے کیونکہ زرعی اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ پیداوار کی قیمتیں جمود کا شکار ہیں، موجودہ جی ڈی پی نمو کی رفتار کے ساتھ غربت میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔ان حالات میں روایتی طرزِ حکمرانی جاری رکھنا ممکن نہیں اور سیاسی محاذ آرائی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔یہ وقت ہے کہ اختلافات کو ختم کیا جائے، اعتماد بحال کیا جائے اور اتحاد و وقار کے ساتھ آگے بڑھا جائے،صرف ایک داخلی طور پر متحد پاکستان ہی بیرونی خطرات کا موثر مقابلہ کر سکتا ہے۔تمام فریقین ،سیاسی جماعتیں، عسکری قیادت، عدلیہ، وکلا برادری اور میڈیا کو مل کر ملک کے لیے آگے کا راستہ متعین کرنا ہوگا۔وہ اراکین پارلیمنٹ جو پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں انہیں آگے بڑھ کر موجودہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اندرونی تقسیم اور بیرونی دبا ئوپاکستان کی خودمختاری، معیشت اور جمہوریت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں،ہر فریق، خواہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، وردی میں ہو یا عدالتی منصب پر، پارلیمنٹ میں ہو یا عوام کے درمیان سب کو پاکستان کے لیے متحد ہونا ہوگا۔آئیے ہم ذاتی خواہشات، سیاسی رنجشوں اور ادارہ جاتی انا کو پاکستان کے مفاد میں ایک طرف رکھ دیں۔اگر حکومت اپوزیشن سے رابطہ کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بہت سے لوگ اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں،موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک کو چلانے کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی لائی جائے اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔اگر ہم اپنے معاملات دانشمندی سے سنبھالیں تو باہمی اتفاق سے حل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت مفاہمت، بصیرت اور ایک شفابخش طرزِ قیادت کی ضرورت ہے۔اگر موجودہ سیاسی قیادت اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکی تو تاریخ موجودہ سیاسی قیادت کو معاف نہیں کرے گی ،ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کی قیادت سے گزارش کرتے ہیں کہ ان خیالات پر سنجیدگی سے غور و فکر کریں
