کراچی( نیوزلیب رپورٹ) برآمدی کارگو پر جیریز ڈیناٹا کی جانب سے فی کلوگرام 50 روپے اضافی ایڈہاک چارج عائد کرنے سے برآمدی شعبےمیں تشویش،ایف پی سی سی آئی نے جیریز ڈیناٹا کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا، وفاقی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ ، بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین اور فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے جیریز ڈیناٹا کی جانب سے برآمدی کارگو پر فی کلوگرام 50 روپے (ٹیکس کے علاوہ) ایڈہاک چارج عائد کرنے کے فیصلے کو برآمدی شعبے کے لیے ایک تشویشناک اور غیر منصفانہ بوجھ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ پہلے ہی معاشی بحران، کاروباری لاگت میں اضافے اور بین الاقوامی فریٹ ریٹس کی بلند ترین سطح کے باعث شدید دباؤ میں ہے ایسے میں اچانک اضافی ہینڈلنگ چارجز کا نفاذ پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹوں میں مسابقت کو براہِ راست متاثر کرے گا۔ ملکی ایکسپورٹ جوکہ پہلے ہی کم ہو رہی ہے مزید کم ہو گی ،ثاقب مگوں نے کہا کہ پاکستان میں فضائی کارگو ہینڈلنگ کا بڑا حصہ جیریز ڈیناٹا کے ویئرہاؤسز کے ذریعے ہوتا ہے جس کے باعث برآمدکنندگان کے پاس متبادل آپشن نہ ہونے کے برابر ہیں ایسی صورتحال میں برآمدکنندگان کو مجبوری میں یہ اضافی لاگت برداشت کرنا پڑے گی جس سے خاص طور پر وہ برآمدات متاثر ہوں گی جو بروقت ترسیل کے لیے فضائی فریٹ پر انحصار کرتی ہیں۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت کا یہ مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اور اچانک چارجز نہ صرف برآمدکنندگان کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتے ہیں بلکہ حکومت کی برآمدات بڑھانے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی حکومت، وزارتِ ہوا بازی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ذریعے کارگو ہینڈلنگ چارجز کو منصفانہ اور معقول بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی و دفاع خواجہ محمد آصف سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے کر برآمدکنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کریں۔انہوں نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کی نگرانی کریں تاکہ برآمدکنندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے والی پالیسیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاہم عالمی مارکیٹوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے برآمدکنندگان کو مستحکم، قابل پیشگوئی اور مناسب لاجسٹک اخراجات کی ضرورت ہے۔جب ملک برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تو برآمدکنندگان پر عائد کیے جانے والے کسی بھی اضافی اخراجات کا بغور جائزہ لیا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ یہ پاکستان کے برآمدی شعبے کی مسابقت کو متاثر نہ کرے۔
