کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) یوٹیلٹی بل ہوں یا پیٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس حکومتی آمدن بڑھانے کا آسان اور بڑا ذریعہ بن گیا ہے ،اس پالیسی کے تحت وفاقی حکومت نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پیٹرولیم لیوی سے 1468 ارب روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے ، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی حکومتی توقعات سے بڑھ جائے گی، کیونکہ اپریل کے وسط تک حکومت 1234 ارب روپے جمع کر چکی ہے ،اس طرح اگر حکومت موجود شرح سے لیوی وصول کرتی رہی تو 30 جون کے اختتام تک یہ 1560 ارب تک پہنچ جائے گی ،یعنی ہدف سے 92 ارب زیادہ، معاشی ماہرین اور عوام کی رائے ہے کہ ایف بی آر بے شمار مراعات کے باوجود اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ،اس لئے عوام سے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے ٹیکس وصول کر نے کا آسان طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے ،اس وقت حکومت پیٹرول پر 117.41 روپے اور ڈیزل پر42.60 روپے لیوی وصول کر رہی ہے ، یہ ٹیکس وہ طبقہ بھی ادا کر رہا ہے جوکہ انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور غریب یا غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہے ،اگر ایک موٹر سائیکل سوار روزانہ ایک لیٹر بھی پیٹرول استعمال کرتا ہے تو وہ حکومت کو 117.41 روپے روزانہ ٹیکس دے رہا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت شور برپا رکھتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے ،
