کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) سندھ کو پانی کی کمی کا سامنا کررہا ہے، سندھ میں پانی کی قلت سے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کےنقصان کا امکان ہے ،ارسا سندھ کے ساتھ زیادتی کررہا ہے جس کا نقصان پاکستان کو ہورہا ہے،دادو اور بدین کا کاشت کار شدید متاثر ہورہا ہے ،ارسا کی جانب سے سندھ کے پانی میں کٹوتی کے باعث صوبے کی زرعی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیںکاشتکار شدید پریشانی سے دو چار ہیں ،1991آبی معاہدے کے تحت ہمیں پانی نہیں مل رہا ، سندھ میں پانی پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گا،چاہیے ہمیں کسی بھی حد تک جانا پڑے،صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے۔سندھ میں 41 فیصد پانی کی کمی ہے۔۔57 ہزار کیوسک پانی ہمیں آج مل۔رہا ہے جو 41 فیصد ہے۔1 لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی پنجاب کو معاہدے کے تحت ملنا چاہیے۔پنجاب کو اس وقت 10 فیصد جبکہ سندھ کو 41 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔سندھ پاکستان میں پہلے چاول کی کاشت شروع کرتا ہے لیکن ہم شروع نہیں کرسکے ہیں۔زمینداروں نے سندھ میں جو بیج لگایا تھا آج سوکھ رہا ہے۔ 23 فیصد جی ڈی پی میں سندھ کے کسانوں کی محنت شامل ہے ۔8 جون 2025 کو دریائے سندھ 71 ہزار کیوسک پانی لارہا تھا۔8 جون 2026 کو تربیلا ڈیم سے 1 لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی نکالا جارہا ہے۔8 جون 2025 کو تربیلا ڈیم سے 78 ہزار کیوسک پانی آرہا تھا۔8 جون 2025 کو 30 ہزار کیوسک پانی منگلا سے آرہا تھا جبکہ آج 35 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے۔پانی موجود ہے لیکن سندھ کے کسانوں کو مل نہیں رہا ہے۔جام خان شورو نے کہا کہ ڈیموں کی پوزیشن پچھلے سال سے بہتر ہے دریا کے اندر پانی کا فلو بہتر ہے۔دریائے کابل پر بھی پانی کی صورتحال بہتر ہے لیکن سندھ کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔گڈو بیراج پر پچھے سال ایک لاکھ کیوسک سے پانی بہتر ملا آج 75 ہزار کیوسک پانی دے رہا ہے۔ارسا سندھ کے ساتھ زیادتی کررہا ہے جس کا نقصان پاکستان کو ہورہا ہے۔دادو اور بدین کا کاشت کار شدید متاثر ہورہا ہے کاٹن ہمارا تباہ ہوچکا ہے۔پانی کے حوالے سے وزیر اعلی سندھ نے وزیر اعظم کے نام خط لکھا ہے۔وزیر اعلی سندھ نے پانی کے حوالے سے سندھ کے تحفظات وزیر اعظم کے سامنے رکھے۔میں نے گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پانی کے معاملے پر احتجاج کیا تھا۔جام خان شورو نے کہا کہ سندھ پانی پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔۔چاہیے ہمیں کسی بھی حد تک جانا پڑے۔ہم سندھ کے لوگوں کے پانی کا دفاع کریں گے
