کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) عوام الرٹ رہیں ، آئس کریم کے نام پردھوکہ نہ کھائیں ، والز اور اومور فروزن ڈیزرٹ ہیں ،آئس کریم نہیں ، مسابقتی کمیشن آف پاکستان کےبعد مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی ہائیکو آئس کریم تیا کرنے والی کمپنی پاکستان فروٹ جوس پرائیویٹ لمیٹڈ کا موقف تسلیم کر لیا ، یونی لیور پاکستان اور فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پر جرمانے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل نے یونی لیور پاکستان اور فریزلینڈ کیمپینا اینگرو کے خلاف اپنے فروزن ڈیزرٹ کی پراڈکٹ کی بطور آئس کریم تشہیر کر کے صارفین کو گمراہ کرنے کے کیس میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے تاہم ٹربیونل نے دونوں کمپنیوں کی درخواست پر جرمانوں میں کمی کی ہے۔بدھ کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹربیونل نے دونوں کمپنیوں کے لئے جرمانے کی رقم کو ساڑھے سات کروڑ روپے سے کم کرکے ڈیڑھ کروڑ روپے کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں یونی لیور پاکستان پر اپنی فروزن ڈیزرٹ پراڈکٹ کو ڈیری آئس کریم کے مقابلے میں صحت بخش ظاہر کرنے والی گمراہ کن تشہیر پر عائد اضافی دو کروڑ روپے کے جرمانے کو بھی کم کر کے پچاس لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان فروٹ جوس پرائیویٹ لمیٹڈ نے مسابقتی کمیشن کو شکایت جمع کروائی تھی کہ یونیلور اور فریزلینڈ کیمپینا اینگرو جو کہ والز اور اومور کے مشہور نام سے سے فروزن ڈیزرٹ تیار کرتی ہیں، اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کے اشتہارات میں اپنے فروزن ڈیزرٹس کی آئس کریم کے طور پر تشہیر کر کے صارفین کو گمراہ اور کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں باضابطہ انکوائری کے بعد مسابقتی کمیشن نے یونی لیور پاکستان اور فریزلینڈ کیمپینا اینگرو جو بالترتیب والز اور اومور کے برانڈز کے تحت فروزن ڈیزرٹس فروخت کرتی ہیں، کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور باقاعدہ سماعت کی۔کمیشن نے اپنی پروسیڈنگ میں پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز 2018 کے معیارات پر انحصار کیا جن میں آئس کریم اور فروزن ڈیزرٹس کو دو الگ مصنوعات قرار دیا گیا ہے۔مسابقتی کمیشن نے دونوں کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیا اور ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی تشہیر میں فروزن ڈیزرٹس کو آئس کریم کے طور پر پیش کرنا بند کریں کیونکہ یہ عمل مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10 کے تحت صارفین کو جھوٹی اور گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کے مترادف ہے تاہم ٹربیونل نے واضح کیا ہے کہ جرمانے میں کمی کو خلاف ورزی سے چشم پوشی نہ سمجھا جائے بلکہ یہ اپیلیٹ صوابدید کے محتاط استعمال کا نتیجہ ہے جو رعایت کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔
