کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )نیلی آنکھوں کے باعث شہرت کی بلندی پر پہنچنے والے ارشد خان المعروف ’ ارشدچائے والا‘ کو نادرا نے پاکستانی شہری تسلیم کر لیا ہے ،ارشد خان جوکہ ایک مزدور کی طرح اسلام آباد میں سڑک کنارے ایک چائے کے کھوکھے پر چائے فروخت کرتے تھے لیکن پھر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو ئی اور ایک راہگیر نے جوکہ ان کی نیلی آنکھوں سے متاثر ہوا تھا نے ان کی ایک تصویر بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا،۔ اس وائرل تصویر نے انہیں راتوں رات شہرت دی اور ماڈلنگ و کاروبار کے مواقع فراہم کر دیئے ،لیکن ایک سال قبل انھیں ایک جھوٹی خبر سےپاکستانی کی بجائے افغانی قرار دے دیا گیا ، ایک ٹی وی رپورٹ میں ان کی شہریت کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا ،نادار کے اس فیصلے سے ان کوبھاری قیمت چکانا پڑی ،شناختی کارڈ کی بندش کے باعث ان کی کاروباری سرگرمیاں اور بیرونِ ملک سفرپر بھی پابندی لگ گئی معاملہ عدالت پہنچا اورلاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بنچ نےان کی دائر کردہ رِٹ پٹیشن اس وقت نمٹا دی، جب نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) نے ان کا بلاک کیا گیا شناختی کارڈ (CNIC) بحال کر دیا۔ درخواست گزار نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عمر اعجاز گیلانی کے ذریعے سول پروسیجر کوڈ کی دفعہ 151 کے تحت دائر کی تھی۔وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کی شکایت کا ازالہ ہو چکا ہے کیونکہ نادرا نے ضروری تصدیق کے بعد اس کا شناختی کارڈ بحال کر دیا ہے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بیرسٹر زین منصور عدالت میں پیش ہوئے اور متعلقہ حکام سے ہدایات حاصل کرنے کے بعد اس پیشرفت کی تصدیق کی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ارشد خان ایک باقاعدہ پاکستانی شہری ہیں جن کے خاندان کا شہریت کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ نادرا کی جانب سے 1978 سے پہلے کی رہائش کا ثبوت طلب کرنا بلاجواز اور بدنیتی پر مبنی ہے، جس سے ان کی شہرت اور روزگار کو غیر ضروری نقصان پہنچا۔وکیل نے آئینی دفعات اور عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے استدلال کیا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بغیر قانونی کارروائی کے بلاک نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس حسن نے اپنے 8 اپریل کے حکم میں نشاندہی کی تھی کہ ایسے انتظامی اقدامات کو آئینی ضمانتوں اور طریقہ کار کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔پیر کے روز، نادرا کی جانب سے شہریت کی تصدیق اور شناختی کارڈ کی بحالی کے بعد، درخواست گزار کے وکیل نے مرکزی پٹیشن واپس لینے کی استدعا کی۔عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ پٹیشن کا مقصد حاصل ہو چکا ہے اور معاملہ نمٹا دیا گیا۔عدالتی حکم کے مطابق، چونکہ درخواست گزار کی شکایت کا ازالہ ہو چکا ہے، مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔ ارشد خان اب باقاعدہ طور پر پاکستانی شہری ہیںلیکن سوال یہ ہے کہ ارشد خان کو پاکستانی ہو تے ہوئے غیر ملکی شہری کیوں بنایا گی ،اس بارے میں میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سب کچھ ایک فیک نیوز کی وجہ سے ہوا جوکہ بلیک میلنگ کی وجہ سے چلائی گئی،ارشد خان کے کے وکیل نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ’ایک نیوز چینل پر نشر کی گئی جھوٹی افواہ کی بنیاد پر ان کے کلائنٹ کا پورا مستقبل، کیریئر اور کاروبار داؤ پر لگ گیا ہے،ارشد خان کے ایک ملازم نے میڈیا کو بتایاکی ایک معروف نیوز چینل کے رپورٹر کو بغیر معاوضے کے انٹرویو دینے سے انکار کر نا اس تنازعے کی وجہ بنا ،چینل نے فیک خبر چلائی جس کی وجہ سے انھیں ایک جانب مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ،دوسری جانب ذہنی اذیت اور پریشانی کا بھی سامنا رہا،دلچسپ بات یہ ہے کہ فیک نیوز پر چینل کے خلاف کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی
