کراچی (نیوز لیب رپورٹ) 2 بڑے میڈیا ہاوسز کی جانب سےنئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق مہم کو سندھ حکومت نے یکسر مسترد کر دیا،وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی ہو سکتا ہے ،مراد علی شاہ نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں، وزیراعلیٰ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، پیپلزپارٹی 18ویں ترمیم میں تبدیلی اور این ایف سی میں کمی کو مسترد کر چکی،کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بار بار اٹھنے والی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے ان باتوں کو مکمل طور پر رد کر دیا،اور کہا کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں۔۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی “خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر” رکھتی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے ترقیاتی وژن اور طرزِ حکمرانی کو اجاگر کیا۔سندھ میں گورنر کی تبدیلی سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ نہ ان کا اور نہ ہی صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے۔ گورنروں کی تقرری میں ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔اپنی ذاتی پس منظر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں وکیل کا بیٹا ہوں اور بہت اچھے وکلا کی صحبت میں کافی وقت گزارا ہے۔ اگر کسی نے دلائل دینے ہیں، تو اس کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔ انہوں نے ان عناصر پر تنقید کی جو قانونی راستہ اختیار کیے بغیر بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں گئے بغیر ہی وکیلوں کی طرح رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔امان و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے چند گروہوں کی جانب سے عوامی زندگی متاثر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سے 150 افراد پورے شہر کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ جب بار بار سڑکیں بند ہوں گی، تو حکومت کو کارروائی کرنا ہی پڑے گی
