کراچی ( نیوز لیب رپورٹ)کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور بلڈرز، ڈیولپرز سمیت بزنس کمیونٹی کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جا رہا ہے، ایف بی آر میں بیٹھے لوگ بلڈرز کے دفاتر پر چھاپے مارکر تمام فائلیں لے جاتے ہیں اوران کے بدلے کروڑوں روپے رشوت مانگتے ہیں، دبئی اور ایران کے نمبروں سے بھتے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ، بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا نے پاکستان کے معاشی انجن کراچی شہر کو یرغمال بنارکھا ہے، ان عناصر کو فتنہ الخوارج کی سرپرستی حاصل ہے،بلڈرز اور کاروباری لوگوں کی مال وجان کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھتہ خور ایران کے نمبروں سے کالیں کرکے بھتہ مانگتے ہیں،بھتہ خوروں کے خلاف ریڈ ورانٹ جاری نہ کیے گئے اور ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو کراچی میں کاروبار بند کرنے اور دھرنا دینے سمیت دیگر آپشن پر غور کیا جائے گاان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف بلڈرز کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے سابق چیئرمین محسن شیخانی،سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز اور چیئرمین سدرن ریجناحمد اویس تھانوی کے ہمراہ آباد ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین آباد نے بتایاکہ بھتہ مانگنے والوں میں احمد علی مغزی، جمیل چھانگا سمیت دیگر عناصر ملوث ہیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ6 نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران آباد کے کم از کم 10 ممبران کو بھتے کے لیے کالز موصول ہوئیں، جن میں دبئی اور ایران کے نمبروں سے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ افراد بھتے کی پرچیاں دیتے ہیں، پرچی لینے سے انکار پر فائرنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آباد کے 10 ممبران نے اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آباد میں شکاات درج کروائی ہیں، جبکہ بھتہ خور اپنی پرچیوں پر اپنے نام، فون نمبرز اور اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی درج کر کے دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ پورے شہر میں سیف سٹی منصوبے کے تحت کیمرے نصب کیے گئے ہیں، مگر یہ بتایا جائے کہ ان کیمروں کی مدد سے اب تک کتنے بھتہ خور پکڑے گئے؟۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وصی اللہ لاکھو کے خلاف 60 مقدمات درج ہیں، پھر بھی شہر میں جرائم کا بازار گرم ہے۔
ظلم کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے، مگر کراچی میں حالات اس انتہا سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ صبح 6 بجے شہر میں ایک وکیل کا اغوا ہونا لمحہ فکریہ ہے، جبکہ لوگ اپنے کاروبار غیر ممالک منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضوں میں اب سرکاری افسران بھی ملوث ہیں، نیو کراچی سیکٹر14 میں آباد کے ایک ممبر کی زمین پر قبضہ کیا گیا، حتیٰ کہ عدالتوں کے فیصلوں پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا اور 40 فٹ چوڑی سڑکوں پر بھی قبضے کیے جا رہے ہیں۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں جہاں آباد نے شکایت درج نہ کروائی ہو، مگر اگر ان شکایات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ بھتہ خوری اور قبضوں کے علاوہ ایف بی آر کے چھاپوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بیٹھے لوگ بلڈرز کے دفاتر پر چھاپے مارکر تمام فائلیں لے جاتے ہیں اور مہینوں اپنے قبضے میں رکھتے ہیں اور ان کے بدلے کروڑوں روپے رشوت مانگتے ہیں۔ محمد حسن بخشی نے بتایا کہ سونک بلڈر، جیلانی پراپرٹی، سلیم گوڈیل، مصطفیٰ ویز سمیت دیگر بلڈرز کو بھی بھتے کی کالز موصول ہوئیں، جبکہ دانش علیم کو بھتے کی کالز آنے کے بعد گزشتہ روز ان کے ملازم کو شہید کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ان کے پیچھے بیٹھے لوگ خوفزدہ ہیں اور اپنی باری کے انتظار میں ہیں، ہماری املاک داؤ پر لگی ہوئی ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔اس موقع پرالائیڈ پینل کے پیٹرن انچیف محسن شیخانی نے کہا کہ ہمیں پکٹس فراہم کی جائیں اور رینجرز کو ہمارے ساتھ تعینات کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ آباد ملک کی 72 صنعتوں کو چلا رہی ہے اور بلڈرز کی املاک سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایران سے فون آتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، معلومات حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے اور جواب نہ ملنے پر فائرنگ کر دی جاتی ہے۔محسن شیخانی نے کہا کہ صبح 8 بجے بھتہ خور آتے ہیں اور فائرنگ کر کے خوف پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے آرمی چیف سے اپیل کی کہ وہ اس شہر کے حالات پر توجہ دیں، کیونکہ ہم ملک کی معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، مگر اگر کاروبار بند ہوا تو ٹیکس کلیکشن کم ہو جائے گی اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں اور کراچی کو بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔آباد کے سینئر وائس چہیرمین سید افضل حمید نے کہا کہ کر بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضوں تعمیراتی صنعت کو یرغمال بنا دیا ہے،کراچی میں امن نہیں ہوگا تو معیشت کو نقصان ہوگا کیوں کہ 50 فیصد ترسیلات زر تعمیراتی شعبے کے ذریعے آتی ہیں۔ اس موقع پر تاجررہنما حفیظ عزیز نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ وصی اللہ لاکھو کے خلاف پولیس کی جانب سے ریڈ وارنٹ کا کیس تو بھیجا گیا تھا، مگر تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں امن قائم کرنا اور بھتہ خوری کا خاتمہ ہمارا بنیادی حق ہے، اور ریاست کو یہ حق دینا ہوگا۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ احمد مگسی اور وصی اللہ لاکھو کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ ایس ایس پی کی بھی نہیں سنتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڑیا بازار میں تاجروں سے زبردستی رقم وصول کی جا رہی ہے، کہیں ایک لاکھ تو کہیں 50 ہزار روپے تک بھتہ لیا جا رہا ہے۔حفیظ عزیز نے مطالبہ کیا کہ بلڈرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسا ماحول بنایا جائے جس میں وہ بلا خوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔
