کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) سیاسی جماعتوں کی آڑ لیکر جرائم پیشہ افراد نے اپنی گیس کمپنیاں چلانی شروع کر دیں ،شہرکے گوٹھوں میں چوری کی گیس سے فکسڈ چارجز پر گیس کنکشن دینے کا انکشاف، ذرائع کے مطابق ایس ایس جی سی کی ٹیم نےکراچی کے مختلف گوٹھوں میں مین ڈسٹری بیوشن لائن سےگیس چوری کر کے پرائیویٹ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک چلانے والے کئی گروپوں کا سراغ لگانے کے بعد ان کے خلاف بھر پور کریک ڈاوں شروع کیا ہے ،ذرائع کے مطابق یہ گروپ بڑی سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کر کے چوری کا نیٹ ورک چلاتے آرہے ہیں ،ایس ایس جی سی ذرائع کے مطابق ایسے منظم گروہوں کی سفارش کے لئے بھی سیاسی لوگوں کے فون آتے ہیں ،دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ علاقہ پولیس کو بھی اپنے ساتھ شامل رکھتے ہیں ،ایسے علاقے جہاں گیس کنکشن نہیں ہیں وہاں اس طرح کے کئی درجن منظم نیٹ ورک موجود ہیں ،ایس ایس جی سی نے ایسے 3 منظم نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ منظم گروہ ایڈوانس فیس کے نام پر 40 سے 50 ہزار وصول کرتے ہیں اس کے بعد ماہانہ بنیاد پر 1500 سے 2500 روپے تک کا بل وصول کرتے ہیں ، مختلف منظم گروپ ایڈوانس فیس لیکر کنکشن جاری کرتے اور اس کے بعد 1500 روپے سے 2ہزار 500 روپے ماہانہ تک بل وصول کیا جاتا تھا ،ایس ایس جی سی نے پولیس کے تعاون سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ، کمپنی کے کراچی ریجن کے مختلف مقامات پر چھاپے،1160 غیر قانونی گیس کنکشن کاٹ دیئے گئے ،تفصیلات کے مطابق سدرن گیس کمپنی نے گیس چوری کے خلاف مہم میں ایس ایس جی سی ٹیم نے مقامی پولیس کے تعاون سے کراچی ریجن میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے.پہلی کاروائی بلدیہ سعیدآباد میں کی گئی جہاں ملزم واٹر ہائیڈرینٹ فیکٹری میں ہیوی گیس جنریٹر چلانے کے لیے کمپنی کی مین ڈسٹری بیوشن لائن سے براہ راست گیس چوری کر رہا تھا۔ ایس ایس جی سی کی ٹیم نے ملزم رحیم اللہ ولد محمد عمر خان کو موقع پر گرفتار کر کے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے ۔ دوسری کاروائی رند گوٹھ، اسکیم 33، کراچی میں کی گئی جہاں کمپنی کی ٹیم نے مین ڈسٹری بیوشن لائن سے جانے والے ایک زیر زمین کنکشن کا پتہ لگایا۔ اس غیر قانونی کنکشن سے 250 گھرانوں کو گیس سپلائی دی جا رہی تھی ، یہ سسٹم ایک گروپ چلا رہا تھا جو کہ ہر کنکشن پر 40 ہزار روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 1,500 روپے ماہانہ بنیادوں پروصول کررہے تھے۔ اس جرم میں ملوث ملزمان چاند زیب خان ولد خاقان خان، ولی جان ولد میر احمد خان اور ملک داد چانڈیو ولد گل بہار چانڈیو کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اسی طرح کا ایک نیٹ ورک گلشن معظم سوسائٹی، بن قاسم، کراچی میں پکڑا گیا جہاں چوری کی گیس سے 150 گھروں کو سپلائی جا ری تھی ملزمان 50,000 روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 2,500 روپے ماہانہ بنیادوں پروصول کررہے تھے۔ اس نیٹ وارک کے مسرور علی ولد محمد نواز سیال اور غلام فرید ولد جمعہ خان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ایک اور چھاپے میں چشمہ گوٹھ، ابراہیم حیدری، کراچی میں زیر زمین گیس چوری پکڑی گئی جو 60 گھروں کو گیس فراہم کر رہی تھی۔ ملزمان 40,000 روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 2,000 روپے ماہانہ ادائیگی کے طور پر وصول کررہے تھے۔ ایف آئی آر ندیم بلوچ ولد علی شیر، آغا سید ضیاء الدین ولد حاجی بدر دین، کمال ولد علی شیر اور نسیم گل ولد وحید گل کے خلاف درج کر لی گئی اسی طرح کی ایک کامیاب کاروائی گوٹھ وسند خان (کلمتی چوک)،شاہ لطیف ٹاؤن، کراچی میں کی گئی جہاں ایک بڑا چھاپہ مارا گیا ،یہاں سے ایس ایس جی سی کی ڈسٹری بیوشن لائن سے منسلک زیر زمین کنکشن کے ذریعے گیس چوری کی جا رہی تھی اور 700 مکانات کو گیس فراہم کی جا رہی تھی ،گیس چوری کرنے والا گروپ یہاں سے 35000 روپے پیشگی ادائیگی اور 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کئے جا رہے تھے ۔ اس نیٹ ورک کے 3 مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی،جن میں اللہ واحد،، جاوید عباسی، اور دل جان مروت شامل ہیں،
