کراچی(نیوز لیب رپورٹ )وفاقی وزیرصحت اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے موقف پر ڈٹ گئے ، جارحانہ انداز،پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی امید نہیں رہی، کیا سندھ کے اس نظام میں رشوت اور کرپشن نہیں چل رہی؟ سندھ کو ایک سال میں 2400 ارب روپے ملے ہیں، سندھ کے وزیر اعلی نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن پر کام رکوا یا، کہا کہ پنجاب کا ہر وزیر اعلی لاہور کو اون کرتا ہے، سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو اون نہیں کرتا،میڈیا سے گفتگو میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئررہنما مصطفی کمال نے کہا کہ صوبے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وفاق کو مداخلت کا اختیار ہے، وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی بات قبول کی ہے،جس ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی والے طعنے دیتے ہیں اس کے بانی کے ذاتی مسئلے یہ خود حل کرتے تھے، ایم کیو ایم کے پاس اس وقت وہ طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا جائے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں اہم شہروں کو علاقائی سطح پر صوبوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے، کراچی میں پے درپے واقعات ہوتے ہیں ہم وزیراعظم سے بات کرینگے، پیپلزپارٹی سندھ میں 18 سال سے حکمرانی کررہی ہے۔ہم وزیراعظم سے آئینی ترمیم کی بات کررہے ہیں جو انھوں نے قبول کی ہے، وزیراعظم فلور پر کہہ چکے کہ ایم کیوایم کی آئینی ترمیم کیلئے میں پی پی کو راضی کروں گا، آج کے حالات نے ثابت کردیا ایم کیو ایم کا 18ویں ترمیم کو سپورٹ کرنا غلط فیصلہ تھا۔وفاقی وزیرصحت نے کہا کہ ایم کیوایم میں کوئی تعصب نہیں کراچی میں لوگوں کو ہم نے ہی اکٹھا کیا ہے، پیپلزپارٹی نے ثابت کردیا کہ ریونیو جنریٹ کرنیوالے شہر کیساتھ اچھا برتائو نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ کیا ہم ہتھیار اٹھائیں، ہڑتال کریں یا جو راء کو آواز دیتے تھے وہ کام کریں، ایسا نہیں ہوسکتا، وزیراعلی ہم بن نہیں سکتے، شہر نہیں دے رہے، بلدیاتی حکومت کو رد کردیا، کیا ہمارا کام شہر میں صرف مرنا رہ گیا، آئین وفاق کو اجازت دیتا ہے کہ مداخلت کرے۔مصطفی کمال نے کہا کہ کیا کراچی والے پاکستان کے شہری نہیں، ہم اور کتنے حادثات کا انتظار کریں، دنیا چاند پر جارہی ہے اور کراچی کے بچے گٹر میں گر رہے ہیں، یہ طعنے دیتے ہیں کہ عمارت ایسے ہی بن گئی تو آپ نے کیوں نہیں توڑا۔انھوں نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمیں اپنی بلدیاتی قانون سے متعلق تجویز سے پیچھے ہٹنا پڑا، ایم کیوایم کے پاس سارے اختیارات نہیں، وزارتیں خط لکھ کر نہیں مانگی۔وفاقی وزیرصحت نے کہا کہ ہمارے پاس وفاق کو گرانے کی چابی نہیں اور نہ اتنی طاقت ہے کہ نظام سے ٹکرائیں، یہ ہمارے احتساب کا وقت نہیں ہے ہمارا احتساب بعد میں بھی ہوجائیگا،مصطفی کمال نے کہا کہ مجھے جو لوگ جانتے ہیں انھیں پتہ ہے ہم نے وزارت ہمیشہ جوتوں کی نوک پر رکھی، ہم ملک کے نظام کا حصہ ہے اس سے ہٹ کر کام نہیں کرناچاہتے، اس نظام میں ہمارے پاس یہ گنجائش نہیں کہ وفاق کیخلاف جائیں۔انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم نے ون پوائنٹ ایجنڈے کو پکڑ کررکھا ہے، ایم کیوایم کی آئینی ترمیم آج بھی زندہ ہے پنجاب اسمبلی نے تو اسے منظور کرلیا ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ہمیں ماضی کے واقعات کے طعنے دیے جا رہے ہیں انہوں نے خود کیا کیا ہے؟ حادثات کے بعد سندھ حکومت اگلے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔انہوں نے کہاپنجاب کا ہر وزیر اعلی لاہور کو اون کرتا ہے، سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو اون نہیں کرتا، ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی امید نہیں رہی، کیا سندھ کے اس نظام میں رشوت اور کرپشن نہیں چل رہی؟وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ کو ایک سال میں 2400 ارب روپے ملے ہیں، سندھ کے وزیر اعلی نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن پر کام رکوا دیا۔انہوں نے کہا کہ کیا میں ہتھیار اٹھا رہا ہوں، سڑک بند کر رہا ہوں یا ہڑتال کر رہا ہوں؟ مصطفی کمال نے کہا کہ کے فور منصوبے پر وفاق کا کام شہر میں لائنیں ڈالنا نہیں ہے، سندھ میں کرپشن اور رشوت کی وجہ سے کام نہیں ہورہا۔
