Skip to content
NewsLab

NewsLab

Primary Menu
  • پاکستان
  • سیاست
  • بزنس
    • ٹریڈ سیاست
    • ایف بی آر
  • خاص رپورٹس
  • دنیا
  • ٹیکنالوجی
  • شوبزنس
  • صحت
  • جرم و سزاء
  • عوامی رائے
  • رابطہ کریں
  • About us
  • Home
  • خاص رپورٹس
  • سائنسی افسانہ ، حقیقت بن گیا،چین اور جنوبی کوریا نے سمندر کے نیچے450 کلومیٹر کی سرنگ مکمل کر لی
  • خاص رپورٹس

سائنسی افسانہ ، حقیقت بن گیا،چین اور جنوبی کوریا نے سمندر کے نیچے450 کلومیٹر کی سرنگ مکمل کر لی

S.D. مارچ 29, 2026
china.korea

کراچی ( نیوزلیب رپورٹ)ناممکن اب ممکن ہو چکا ہے، سائنسی افسانہ ، حقیقت بن گیا ،دہائیوں تک سمندروں کے نیچے راستوں کے ذریعے براعظموں کو جوڑنے کا خواب چین اور جنوبی کوریا کے انجینئرز نے پورا کر دیا ، چین اور کوریا کے انجینئرزنے خاموشی سے وہ کارنامہ مکمل کر لیا ہے جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے،جی ہاں یہ کارنامہ ہے سمندر کے نیچے 450 کلومیٹر طویل سرنگ جو شنگھائی کو جنوبی کوریا سے ملاتی ہے۔ یہ انجینئرنگ کا شاہکار، جو نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ طویل ہے، نہ صرف انسانی ذہانت کی فتح ہے بلکہ ایشیا میں لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے طریقے میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ذرا تصور کریں کہ آپ شنگھائی کے مصروف مالیاتی علاقے سے ایک تیز رفتار ٹرین میں سوار ہوتے ہیں اور صرف چند گھنٹوں بعد سیول میں نکلتے ہیں، جبکہ آپ نے لاکھوں ٹن سمندری پانی کے نیچے سفر کیا ہوتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں جب یہ منصوبہ پیش کیا گیا تو یہ سائنسی افسانہ لگتا تھا، مگر اب یہ حقیقت بن چکا ہے، اور اس زیرِ آب راہداری کا آخری حصہ چند ہفتے پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے۔ یہ تکمیل ایک ایسے اہم وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک مضبوط معاشی تعلقات اور فضائی و بحری مال برداری پر انحصار کم کرنے کے خواہاں ہیں،

آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ منصوبہ کتنے عرصے میں مکمل ہوا تو اہل پاکستان اور خاص کر اہل کراچی کے لئے یقیناً بڑی خبر ہے ،یہ منصوبہ 2018 میں سمندر کی تہہ کے وسیع سروے اور ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کے ساتھ شروع ہوا۔ ابتدائی کھدائی 2019 میں مصنوعی جزیروں سے شروع کی گئی اور اب یہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے ،مستقبل میں اس سرنگ کو جاپان سے منسلک کرنے کا پلان ہے ؟مجوزہ سیول-ٹوکیو توسیع ابھی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔ تاہم متعلقہ حکومتوں کی منظوری کے بعد امکان ہے کہ 2035 تک یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا ،بحر اصفر(زرد سمندر) کے نیچے انجینئرنگ کا شاہکارشنگھائی-جنوبی کوریا سرنگ اب تک تعمیر کی جانے والی سب سے طویل زیرِ آب گزرگاہ ہے، جو چینل ٹنل کی 50 کلومیٹر لمبائی سے نو گنا بڑی ہے۔ انجینئرز کو مختلف سمندری تہہ کی حالتوں میں کھدائی کے دوران غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں نرم مٹی سے لے کر سخت گرینائٹ کی تہیں شامل تھیں، جن کے لیے خاص طور پر تیار کردہ مشینوں کی ضرورت پڑی۔تعمیراتی ٹیموں نے دونوں سروں سے بیک وقت کام کیا، اور، جی پی ایس، کی مدد سے چلنے والی سرنگ کھودنے والی مشینوں کا استعمال کیا جو ملی میٹر کے حساب سے اپنا راستہ درست کر سکتی تھیں۔ تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب دونوں حصے عین درمیان میں، سمندر کی سطح سے 180 میٹر نیچے، آپس میں مل گئے، اور منصوبہ بند راستے سے انحراف 2 سینٹی میٹر سے بھی کم تھا۔یہ سرنگ دراصل تین علیحدہ راستوں پر مشتمل ہے—2 تیز رفتار ریل کے لیے جو مخالف سمتوں میں چلتی ہیں، اور ایک سروس سرنگ جو دیکھ بھال اور ہنگامی انخلا کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہر مرکزی سرنگ کا قطر 15 میٹر ہے، جو ڈبل ڈیکر ٹرینوں کے لیے کافی ہے جو 250 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چل سکتی ہیں،یہ سرنگ چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت میں انقلاب لائے گی ، جس کی موجودہ مالیت سالانہ 360 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اب مال بردار ٹرینیں سامان کو چھ گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منتقل کر سکتی ہیں، جبکہ کارگو جہازوں کے ذریعے یہی کام 24 سے 48 گھنٹے لیتا ہے، جس سے لاگت اور وقت دونوں میں نمایاں کمی آئے گی۔مشرقی چین کے صنعتی مراکز کو جنوبی کوریا کی بندرگاہوں اور منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو جائے گی، جبکہ کوریائی کمپنیاں چینی صارفین تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچ سکیں گی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق، یہ سرنگ کھلنے کے پانچ سال کے اندر دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کی خدمات کے آغاز کے ساتھ ہر سمت میں روزانہ 16 روانگیاں متوقع ہیں، جن کے ذریعے سالانہ تقریباً 2 کروڑ مسافروں کو سفر کی سہولت مل سکتی ہے۔ خاص طور پر کاروباری افراد کو چار گھنٹے میں شہر کے مرکز سے دوسرے شہر کے مرکز تک پہنچنے کی سہولت سے فائدہ ہوگا، جس سے شنگھائی اور سیول کے درمیان ایک ہی دن میں ملاقاتیں ممکن ہو جائیں گی،سفر کے درمیان ایک زیرِ آب اسٹیشن بھی بنایا گیا ہے جہاں ریستوران، ڈیوٹی فری دکانیں، اور مشاہداتی لاؤنج موجود ہیں جہاں سے سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ، اس منصوبے پر 88 ارب ڈالر لاگت آئی، جس میں چین نے 60 فیصد اور جنوبی کوریا نے 30 فیصد سرمایہ فراہم کیا، جبکہ باقی رقم بین الاقوامی اداروں نے دی۔اندازوں کے مطابق یہ سرنگ سالانہ 4.5 ارب ڈالر آمدنی پیدا کر سکتی ہے، جبکہ کارگو سے مزید 2 ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔ 18 سے 20 سال میں لاگت پوری ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال، یہ سرنگ صرف ریل ٹرانسپورٹ کے لیے مخصوص ہے۔ مسافر اور مال بردار ٹرینیں الگ الگ شیڈول کے تحت چلیں گی تاکہ کارکردگی اور حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے

Post navigation

Previous: پی ٹی آئی جی ایس پی پلس کے خلاف نہین، ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویش ناک ہے،سندھ میں30ہزار ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود ترقی نہیں
Next: میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تعداد بڑھا کر50 ہزار کر دی جائے،وزیر صحت

Related News

gulishan.e,rufi
  • خاص رپورٹس

گلش روفی متاثرین کی عدالت میں انصاف کے لئے دہائیاں

S.D. مئی 23, 2026
citywithout.trees
  • خاص رپورٹس

کراچی کا ماحولیاتی نظام تباہی کے دہانے پر،حالیہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث50 ہزار درخت کاٹ دیئے گئے

S.D. مئی 17, 2026
watermelon
  • خاص رپورٹس

لال لال نہیں ، گولڈن زرد افریقن تربوز سے بھی لطف اٹھائیں پاکستان پہنچ گیا،

S.D. مئی 17, 2026

تازہ ترین

  • پنجاب میں فلم سٹی کے لئے55ارب روپے مختص
  • سندھ میں پانی کی قلت سے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کےنقصان کا امکان ،دادو اور بدین کا کاشت کار شدید متاثر
  • ایران امریکا جنگ کے باعث3 ہزار 500 پاکستانیوں کو دبئی سے نکالا گیا،حکومت کا انکشاف
  • بھارت میں بنگالی عتاب کا شکار،5ہزار کو بھارت نےملک بدر کر دیا
  • گلش روفی متاثرین کی عدالت میں انصاف کے لئے دہائیاں

Categories

  • Uncategorized
  • ایف بی آر
  • بزنس
  • پاکستان
  • ٹریڈ سیاست
  • ٹیکنالوجی
  • خاص رپورٹس
  • دنیا
  • سیاست
  • شوبزنس
  • صحت
  • عوامی رائے

You may have missed

film.city2
  • شوبزنس

پنجاب میں فلم سٹی کے لئے55ارب روپے مختص

S.D. جون 16, 2026
Minister.jamkhan2
  • پاکستان

سندھ میں پانی کی قلت سے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کےنقصان کا امکان ،دادو اور بدین کا کاشت کار شدید متاثر

S.D. جون 11, 2026
uae4
  • پاکستان
  • دنیا

ایران امریکا جنگ کے باعث3 ہزار 500 پاکستانیوں کو دبئی سے نکالا گیا،حکومت کا انکشاف

S.D. جون 10, 2026
india and bangladesh
  • دنیا

بھارت میں بنگالی عتاب کا شکار،5ہزار کو بھارت نےملک بدر کر دیا

S.D. جون 9, 2026