کراچی ( نیوز لیب رپورٹ )بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے اپنی معزولی کی دوسری برسی کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اپنے عوام کے پاس جاوں گی، اگرچہ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں گرفتار یا قتل بھی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ اس سال دسمبر تک بنگلہ دیش واپس جائیں گی ،واضح رہے کہ 78 سالہ شیخ حسینہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں، بنگلہ دیش میں ایک ٹریبونل نے ان کی غیر موجودگی میں انھیں سزائے موت سنا چکا ہے ، ان کا یہ ورچوئل خطاب ان کی معزولی کی دوسری پر نئی دہلی میں فارن کرسپانڈنٹس کلب (ایف سی سی ) ساؤتھ ایشیا کی جانب سے نئی دہلی کے سر مارک ٹیلی آڈیٹوریم میں منعقد ہ تقریب میں کیا گیا پریس کانفرنس میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم دو سال قبل طلبہ کی قیادت میں ہونے والے وسیع احتجاج کے بعد ڈھاکا سے بھاگ کر بھارت آ گئی تھیں اور تب سے وہیں مقیم ہیںشیخ حسینہ نے کہا کہ گزشتہ 2 برس سے میں اپنے پیارے بنگلہ دیش کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہی ہوں۔ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں جسے ہم نے تعمیر کیا تھا، اور نہ ہی وہ بنگلہ دیش ہے جس کے لیے 1971 میں 30 لاکھ لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی تھی۔”انہوں نے مزید کہا، “میں جولائی اور اگست 2024 کے بارے میں حقیقت بیان کرنا چاہتی ہوں۔ یہ کوئی پُرامن طلبہ تحریک نہیں تھی۔ ابتدا ہی سے میری حکومت نے مذاکرات، قانونی عمل اور تحمل کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اصلاحات کے نام پر منظم گروہ طلبہ کے مطالبات کو ایک پُرتشدد سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم تھے۔انہوں نے کہا، “وہ شیخ مجیب الرحمٰن کو تاریخ سے مٹانا چاہتے ہیں۔” عوامی لیگ کی صدر نے مزید کہا کہ ان کی جماعت پر عائد پابندی ختم کی جانی چاہیے، کیا وہ اپنے وطن واپس جائیں گی۔ اس سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ وہ رواں سال دسمبر تک ڈھاکہ واپس جائیں گی۔انہوں نے کہا، “واپسی پر مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ مجھے قتل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے واپس جانا ہی ہوگا۔”بین الاقوامی برادری کے نام اپنے پیغام میں شیخ حسینہ نے کہا:”میں عالمی برادری اور بنگلہ دیش کے تمام دوستوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ جمہوریت، انصاف اور امن کی جدوجہد میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایک مستحکم بنگلہ دیش نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ خلیج بنگال کے خطے کے لیے بھی اہم ہے،
دریں اثنا شیخ حسینہ کے بیٹے نے الزام لگایا ہے کہ ’’بنگلہ دیش بھارت کے لیے ایک اور پاکستان بن گیا ہے‘‘بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ “بھارت کی مشرقی سرحد پر بنگلہ دیش ایک اور پاکستان بن چکا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجیب واجد نے جولائی اور اگست 2024 کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور سابق حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں نمایاں فرق موجود ہے۔انہوں نے کہا:”آپ نے بارہا 2024 کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں سنا ہے۔ مختلف ادارے مختلف اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ 1,400 اموات کی بات کرتی ہے جبکہ حکومت کے مطابق یہ تعداد تقریباً 800 تھی۔ آخر یہ اضافی 600 افراد کون ہیں؟ اقوام متحدہ کو ان کے نام کہاں سے ملے؟”انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت اور وکلا نے متعدد بار اقوام متحدہ سے ان افراد کی فہرست طلب کی، لیکن آج تک کوئی نام فراہم نہیں کیا گیا۔واجد نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ صرف 15 اگست 2024 تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ اس کے بعد بھی ہلاکتیں ہوتی رہیں۔انہوں نے کہا:”زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ صرف 15 اگست تک محدود ہے، حالانکہ اس کے بعد بھی اموات کا سلسلہ جاری رہا۔ میرے خیال میں بین الاقوامی میڈیا کو اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔”سجیب واجد نے محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت، جس کی جگہ بعد میں طارق رحمان کی حکومت نے لی، کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ اس نے قتل کے الزامات کا سامنا کرنے والے مظاہرین کو “بلاامتیاز قانونی استثنیٰ” فراہم کیا۔’
