کراچی (نیوز لیب رپورٹ ) قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی ( پی اے سی ) نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق پی اے سی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے وزارتِ بحری امور کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔آڈٹ حکام کی جانب سے پی اے سی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بغیر اشتہار کے کی گئی بھرتیوں کو متعدد تحقیقات میں غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ پبلک کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزارتِ بحری امور سے متعلق آڈٹ سال 2024-25 کے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزہ میں بتایا گیاکہ 2012 میں کراچی پورٹ ٹرسٹ میں تقریباً 1,200 ملازمین کو عوامی اشتہار کے بغیر بھرتی کیا گیا تھا، اور بعد ازاں مستقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق چار الگ الگ تحقیقات میں اس بھرتی کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ تحقیقات کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، تاہم ملازمین نے اس کارروائی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔احتساب کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین نے استفسار کیا کہ غیر قانونی بھرتیوں کی منظوری دینے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے سوال کیا کہ کیا بھرتی ہونے والے افراد کو یہ معلوم بھی تھا کہ ان کی تقرریاں غیر قانونی تھیں۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے ریمارکس دیے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ ملازمتیں فروخت کی گئی ہوں۔نیب حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ اس معاملے میں ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے اور مقدمہ اس وقت زیر سماعت ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی بھرتیوں کی تعداد 940 ہے۔ تاہم کے پی ٹی حکام نے بتایا کہ جعلی ڈگری رکھنے والے تقریباً 100 سے 125 ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔کے پی ٹی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ “یہ بھرتیاں ایک سابق وفاقی وزیر نے کی تھیں”۔ قائم مقام چیئرمین نے ریمارکس دیے کہ دوسروں کے فیصلوں کی سزا ملازمین کو نہیں ملنی چاہیے۔ سینیٹر بلال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 1,200 بھرتی ہونے والوں میں سے کتنے مقررہ اہلیت پر پورا اترتے تھے اور کتنے نہیں، کمیٹی کے رکن سید حسین طارق نے کہا کہ کے پی ٹی ملازمین کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے اور امکان ظاہر کیا کہ ان میں کچھ فرضی ملازمین بھی ہو سکتے ہیں۔۔پی اے سی نے یہ معاملہ وزارتِ بحری امور کے سپرد کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ غیر قانونی بھرتیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے
