کراچی ( نیوزلیب رپورٹ)مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال،عالمی شپنگ انڈسٹری کے بحران نے پاکستان کی تجارت اور صنعت کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں،جہازوں کی آمد و رفت رک جانے سےپورٹ پر کنٹینرزکے ڈھیر لگ گئے، ایکسپورٹرز کے وہ تمام کنٹینرز جوکہ بروقت پورٹس پر پہنچ گئے تھے اب ٹرمینل حکام ایکسپورٹرز سے کہ رہے ہیں کہ ان کنٹینرز کوواپس منگوا لیں ،لاہور،فیصل آباد،سیالکوٹ ،اور ملک کے دیگر شہروں سے کراچی پورٹس پر پہنچنے والے کنٹینرز اگر واپس فیکٹری یا ویئر ہاوس جاتے ہیں تو ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ،ایف پی سی سی آئی نے اس بحرانی صورتحال میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پورٹ پر رکھے کنٹینرز کے ڈیمرج، ڈیٹینشن چارجز پر 30 دن کی فوری رعایت دے ،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر اور چیئرمین بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) ثاقب فیاض مگوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث شپنگ لائنز نے جہازوں کی آمد و رفت روک دی ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدکنندگان کے کنٹینرز پورٹس پر پھنس گئے ہیں اور برآمدی آرڈرز شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ برآمدکنندگان نے معمول کے مطابق اپنی ایکسپورٹ کےتمام کنٹینرز بروقت پورٹ پر پہنچا دیے تھے مگر جہاز نہ لگنے کے باعث اب ٹرمینل حکام انہیں کنٹینرز واپس منگوانے کا کہہ رہے ہیں۔ اگر کنٹینرز واپس فیکٹریوں میں لانے پڑے تو اس سے بھاری مالی نقصان ہوگا کیونکہ فیکٹری تک واپسی اور دوبارہ پورٹ تک پہنچانے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر پورٹس پر کم از کم 30 دن کی خصوصی رعایت دی جائے اور ڈیمرج و ڈی ٹینشن چارجز مکمل طور پر معاف کیے جائیں تاکہ برآمدکنندگان کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث متعدد کارگو جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہی نہیں ہو سکے جبکہ جو جہاز روانگی کے لیے تیار تھے وہ بھی اب خلیجی ممالک کا رخ نہیں کر رہے جس کے نتیجے میں برآمدی کنٹینرز کی بڑی تعداد پورٹ پر ہی پھنس گئی ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے بتایا کہ خاص طور پر چاول کے برآمدی کنٹینرز شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاول کی برآمد میں مارجن پہلے ہی کم ہوتا ہےاور اگر برآمدکنندگان کو کنٹینرز آف لوڈ کرکے دوبارہ ویئرہاؤسز میں منتقل کرنا پڑا تو لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جس سے برآمدکنندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر برآمدی شعبے کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ موجودہ حالات میں برآمدات کو سہارا دینا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
