کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) پاکستان میں آٹو موبائل مارکیٹ کی سب سے بڑی کمپنی انڈس موٹرز نے کہا ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہو ئی ہے رواں مالی سال کے 9 ماہ جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک معیشت میں بہتری کی وجہ سے آٹو موبائل مارکیٹ بحال ہوئی ہے ،اس کی فروخت، آمدن اور منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، مقامی طور پر تیار کردہ مسافر گاڑیوں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی فروخت سالانہ بنیاد پر 42.8 فیصد اضافے کے ساتھ 144,029 یونٹس تک پہنچ گئی ہے ،کمپنی کی جانب سے جاری پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (IMC) نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے 9 ماہ کے لیے اپنے غیر آڈٹ شدہ مالی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور بحال ہوتی آٹو موبائل مارکیٹ کے باعث فروخت، آمدن اور منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس نو ماہ کے عرصے کے دوران کمپنی نے 33,572 سی کے ڈی اور سی بی یو گاڑیاں فروخت کیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں فروخت ہونے والی 21,890 یونٹس کے مقابلے میں 53.4 فیصد زیادہ ہیں۔ کمپنی کا مارکیٹ شیئر تقریباً 15.3 فیصد رہا، جس میں ٹویوٹا کرولا اور ٹویوٹا یارس کی مسلسل طلب نے اہم کردار ادا کیا۔فروخت کی خالص امدن بڑھ کر 191.97 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 145.53 ارب روپے تھی۔ بعد از ٹیکس منافع 19.39 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 16.55 ارب روپے تھا۔ فی شیئر آمدن (EPS) 246.80 روپے رہی، جو گزشتہ سال 210.62 روپے تھی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تیسری عبوری نقد ڈیویڈنڈ 51 روپے فی شیئر کا اعلان بھی کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 50 روپے فی شیئر تھا۔مزید برآں، 24 اپریل 2026 کو منعقدہ بورڈ اجلاس میں پرزہ جات اور اجزاء کی لوکلائزیشن بڑھانے کے لیے ایک ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری کی منظوری دی گئی، جس کے بعد اس منصوبے میں مجموعی سرمایہ کاری 5.1 ارب روپے ہو گئی ہے۔ملک کی معیشت میں اس نو ماہ کے دوران بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد، مہنگائی 7.3 فیصد اور 31 مارچ 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 21.89 ارب ڈالر رہے۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف اصلاحات نے مجموعی معاشی استحکام کو سہارا دیا۔ملکی آٹو سیکٹر میں بھی بہتری آئی، جہاں مقامی طور پر تیار کردہ مسافر گاڑیوں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی فروخت سالانہ بنیاد پر 42.8 فیصد اضافے کے ساتھ 144,029 یونٹس تک پہنچ گئی۔ تاہم، صنعت کی پیداواری صلاحیت کا استعمال اب بھی تقریباً 40 فیصد ہے، جو مسلسل طلب اور پالیسی تسلسل کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر جمالی نے کہا: “ہمارے نو ماہ کے نتائج مارکیٹ کی بحالی، مؤثر حکمت عملی اور صارفین کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ زیادہ فروخت، لاگت میں بہتری اور لوکلائزیشن میں اضافے نے مالی کارکردگی کو مضبوط بنایا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، “آٹو موبائل سیکٹر کی اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی پالیسیوں میں تسلسل نہایت اہم ہے۔ مستحکم قوانین، معقول ٹیکس نظام اور سستی فنانسنگ تک رسائی مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔”انہوں نے حکومت کی جانب سے بیگیج اسکیم کے خاتمے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جس سے مقامی اسمبل گاڑیوں کی طلب میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور غیر استعمال شدہ صلاحیت میں کمی آئے گی۔کمپنی مالی سال 2025-26 کے باقی عرصے کے لیے محتاط انداز میں پُرامید ہے، جس کی بنیاد مستحکم معاشی اشاریے اور صارفین کی طلب ہیں۔ تاہم، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چین کے خطرات اہم چیلنجز ہیں۔کمپنی نے آٹو فنانسنگ کی موجودہ حد (30 لاکھ روپے اور 3 سال مدت) میں نرمی، ٹیکس میں بہتری اور گاڑیوں کی برآمدات کے لیے مراعات دینے پر زور دیا تاکہ آٹو سیکٹر کی طویل مدتی مسابقت کو مضبوط بنایا جا سکے
