اسلام آباد ( نیوز لیب رپورٹ ) کسٹمز کے 3 افسران رشوت کے الزام میں گرفتار ، رشوت ستانی، بھتہ خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزامات میںگرفتار ہونے والوں میں انسپکٹر شہزیب علی ،کرسٹوفر اور سپرنٹنڈنٹ فخر اقبال گوندل شامل ہیں ،ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کسٹمز انسپکٹر شہزیب علی کو مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیے گئے ٹریپ ریڈ کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا،شہزیب علی سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں بقیہ دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی کے رہائشی علی اطہر نے ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر شہزاد ندیم بخاری سے رابطہ کرکے الزام عائد کیا کہ کسٹمز انسپکٹر شہزیب اور دیگر اہلکاروں نے ملی بھگت سے انہیں ہراساں اور دھمکایا ہےاور ایک زیرِ التوا کسٹمز فوجداری مقدمے میں ناجائز ریلیف دینے کے عوض ابتدا میں 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔بعد ازاں یہ رقم 25 لاکھ روپے طے ہوئی۔ شکایت کنندہ نے مزید الزام عائد کیا کہ مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں اہلکاروں نے ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو مقدمے میں ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس شکایت پر متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کرنے اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی-8 میں ایک کیفے پر مجسٹریٹ کی نگرانی میں چھاپہ مارا ۔کارروائی کے دوران انسپکٹر شہزیب علی کو مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کی پہلی قسط وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ نشان زدہ کرنسی نوٹ اور ان کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا گیا۔حکام نے بتایا کہ موبائل فون کی ابتدائی فرانزک جانچ کے دوران ایسی وائس چیٹس برآمد ہوئی ہیں جن سے مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے رقم بٹورنے کی مجرمانہ سازش اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے منصوبوں کا عندیہ ملتا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق شکایت کنندہ کے پاس اس مطالبے کی ویڈیو بھی موجود تھی۔ایف آئی اے کے مطابق مشتبہ اہلکار کے موبائل فون کی ابتدائی جانچ کے دوران سپرنٹنڈنٹ گوندل کے ساتھ وائس چیٹس سامنے آئیں، جن میں رقم ہتھیانے اور شکایت کنندہ کے خاندان کی خواتین کو ہراساں کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی تھی،ایف آئی اے کے مطابق شہزیب علی سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں فخر گوندل اور کرسٹوفر کو گرفتار کیا گیا ہے
